اگر ذبح کرنے سے پہلے قربانی کا جانور ضائع ہو جائے تو کیا حکم ہے؟

میں نے اس سال قربانی کرنے کا عزم کیا اور ایک شرعی سوسائٹی کے زیر اہتمام مسجد کے ذریعے قربانی کا حصہ لے لیا، اس کیلیے ہم چھ افراد نے مل کر ایک بچھڑا لے لیا اور شرعی سوسائٹی کو 2000 پاؤنڈ ادا کر دئیے ، سوسائٹی کی جانب سے قربانیاں خرید لی گئیں اور حصے داروں کی تعداد کے مطابق ہر ایک قربانی کو حسب ضابطہ ان کے مالکان کے نام سے نامزد کر دیا گیا، جس قربانی میں پانچ ، چھ، یا سات جتنے بھی افراد تھے انہیں ان کی قربانی کا جانور نامزد کر کے دے دیا گیا۔
لیکن عید کے دن فجر کی نماز سے ایک گھنٹہ پہلے ہمارے لیے نامزد کردہ جانور فوت ہو گیا اور میں نے کوئی رقم بھی واپس نہیں لی؛ کیونکہ میں نے قربانی خرید لی تھی اور جانور خریدنے کے بعد لیکن ذبح ہونے سے پہلے ہی فوت ہو گیا، پھر میں نے ایک اور قربانی تلاش کی اور ایک بکری جس کی قیمت 1000 پاؤنڈ تھی اسے ذبح کر دیا۔
اب سوال یہ ہے کہ:
پہلا سوال : ایسی حالت میں صحیح طریقہ کار کیا ہے؟ دوسرا: کیا قربانی سے محرومی کا سامنا میرے گناہوں کی سزا ہے؟

الحمد للہ:

اول:

جب انسان قربانی کا جانور نامزد کر دے اور پھر وہ جانور اس کی کوتاہی یا عمل دخل کے بغیر مر جائے تو  اس پر کچھ نہیں ہے۔

ابن قدامہ رحمہ اللہ "المغنی” (9/353) میں کہتے ہیں:
"اگر اس کی قربانی کا جانور کسی سستی یا کوتاہی کے بغیر تلف ہو جاتا ہے، یا چوری ہو جائے یا گم ہو جائے تو اس پر کچھ نہیں؛ کیونکہ قربانی کا جانور اس کے پاس امانت تھا، تو چونکہ اس نے کوئی کوتاہی نہیں کی تو وہ اس کا ضامن نہیں ہو گا، بالکل اسی طرح جیسے امانت میں ضامن نہیں ہوتا” انتہی
مزید کیلیے دیکھیں: "الانصاف” از مرداوی (4/71)

دوم:

اگر انسان خود قربانی کا جانور تلف کر دے یا کوئی اور کرے تو وہ تلف ہونے میں سبب بننے والا شخص اس کی قیمت یا متبادل جانور  کا ضامن ہو گا۔

ابن قدامہ رحمہ اللہ "المغنی” (9/352) میں کہتے ہیں:
"اگر واجب قربانی کا جانور  تلف کر دیا تو اس پر اس کی قیمت ہو گی؛ کیونکہ جانور کی قیمت لگ سکتی ہے اور قیمت بھی اسی دن کے اعتبار سے لگے گی جس دن جانور کو تلف کیا گیا” انتہی

یہ باتیں واضح ہونے کے بعد آپ پر کچھ بھی لازم نہیں ہے؛ کیونکہ آپ نے قربانی کو تلف نہیں کیا اور نہ ہی آپ نے اس کی حفاظت میں کسی قسم کی کمی کی ہے۔

البتہ آپ نے بعد  میں قربانی کی نیت سے مینڈھا ذبح کیا تو یہ اچھا اقدام ہے، اس پر آپ کو اجر ملے گا، لیکن آپ پر متبادل کے طور پر جانور ذبح کرنا ضروری نہیں تھا، چونکہ آپ قربانی کر چکے ہیں تو یہ آپ کی جانب سے نفلی عمل ہے اور اضافی نیکی ہے ان شاء اللہ یہ اجر کا باعث ہو گی۔

آپ کی قربانی فوت ہو گئی تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ محرومیت کے زمرے میں شامل ہے، یا یہ آپ کیلیے عذاب وغیرہ ہے۔ بلکہ کسی کو کیا معلوم کہ یہ آپ کے درجات کی بلندی کیلیے آزمائش ہو؟ اور آپ نیکی کے اس کام میں پہلے اچھے اقدام کر چکے ہیں کہ فوت ہو جانے والی قربانی کے متبادل کے طور پر آپ نے ایک اور قربانی ذبح کر دی، تو یہ سب اقدامات -ان شاء اللہ-آپ کیلیے خیر و بھلائی اور نیکی ہیں۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"کسی بھی کام کے کرنے کا پختہ ارادہ  رکھنے کے ساتھ انسان جب حسب استطاعت کوشش بھی کرے تو شریعت میں اسے مکمل طور پر کام سر انجام دینے والے کا درجہ دیا جاتا ہے، اسے مکمل طور پر کام کرنے والے کا ثواب ملتا ہے، اور [اگر کام عقوبت کے لائق ہو تو]اسے متعلقہ کام کرنے پر پوری سزا بھی ملتی ہے۔ یعنی اسے اس کام کی جزا یا سزا بھی ملتی ہے جو اس کی استطاعت میں نہیں تھا[لیکن اس نے حتی المقدور کرنے کی کوشش کی تھی] جیسے کہ نیکی کے کاموں میں شریک ہونے والوں کو جزا ملتی ہے” انتہی
ماخوذ از: "مجموع الفتاوی” (10 /722-723) اسی طرح یہ بھی دیکھیں: "مجموع الفتاوى” (23 /236)

ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی آپ سمیت تمام مسلمانوں کی قربانی قبول فرمائے۔

واللہ اعلم.

زمرہ: زمرے کے بغیر