ایک مسلمان کے پاس گاڑیاں اور مکان ہوں تو کیا ان پر زکاۃ ہے؟

سوال: ایک مسلمان کے پاس ذاتی استعمال کیلئے گاڑیاں اور مکان ہوں تو کیا ان پر زکاۃ ہے؟

الحمد للہ:

اول:

انسان کے پاس موجود مال کو علمائے کرام دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں:

1- نقدی، اس میں سونا، چاندی اور کرنسی نوٹ  شامل ہیں۔
اس قسم پر اس وقت زکاۃ لاگو ہو گی جب شرعی نصاب  تک پہنچ جائیں اور ان پر ایک سال بھی گزر جائے۔

2- سامان [عرض، "عین "پر زبر اور "ر "پر سکون کیساتھ ]  اس میں سونا چاندی  کے علاوہ وہ تمام چیزیں شامل ہیں جن کی مالیت  ہے چاہے وہ منقولہ  ہو یا غیر منقولہ۔

نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
” عرض” اسے "عین "پر زبر اور "ر "پر سکون کیساتھ پڑھا جائے گا، اہل لغت کہتے ہیں کہ اس سے مراد سونے چاندی کے علاوہ تمام  مالیت رکھنے والی اشیا ہیں۔

جبکہ ” عرض” "ر "پر زبر کیساتھ اس سے مراد سونے چاندی اور دیگر تمام مالیت رکھنے  والی اشیاء  مراد ہوتی ہیں” انتہی
"تحرير ألفاظ التنبيه” (ص: 114) اسی طرح دیکھیں: "الزاهر في غريب ألفاظ الشافعي” از: ازہری (ص: 108)

چنانچہ زمین، جانور، گھریلو سامان، کپڑے، کتب ۔۔۔ وغیرہ ایسی تمام چیزیں جو انسان  اپنے ذاتی استعمال کیلئے  اپنے پاس رکھتا ہے انہیں "عَرْض” کہا جاتا ہے، اور اس قسم  کی اشیا پر اس وقت تک زکاۃ نہیں ہوتی جب تک ان چیزوں کو رکھنے کا مقصد ان کی تجارت نہ ہو۔

چنانچہ ایسا سامان جن کی تجارت کرنا مقصود ہو تو اس میں زکاۃ واجب ہوگی، چاہے  وہ جائیداد، جانور، کارپٹ، الیکٹرانکس،  سپئر پارٹس، کتب، غذائی سامان، لباس، کپڑے، بنائی کیلئے ہوئے لباس، تعمیراتی سامان، یا مختلف چیزوں کے شو روم ۔۔۔ سب پر زکاۃ ہوگی۔

پہلے سامانِ تجارت کے متعلق  فتوی نمبر: (130487) میں تفصیلی گفتگو گزر چکی ہے۔

جبکہ ایسا سامان جو انسان نے تجارت کے علاوہ کسی بھی غرض یعنی ذاتی استعمال یا کسی اور مقصد سے رکھا ہوا ہے  مثلاً: کپڑے، گھریلو سامان، گاڑی، رہائشی مکان۔۔۔ یا انہیں کرایہ پر دیکر ان سے آمدن حاصل کرتا ہے تو ان میں زکاۃ نہیں ہے، مثلاً: مکان یا گاڑی کرایہ پر چلتی ہے اس میں تمام علمائے کرام کے اجماع کے مطابق زکاۃ نہیں ہے، چاہے ان کی قیمت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو۔

اس کی دلیل بخاری : (1463) مسلم: (982) میں ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مسلمان کے گھوڑے، اور غلام میں صدقہ نہیں ہے)

ابن ملقن رحمہ اس حدیث کی شرح میں کہتے ہیں:
"یہ حدیث ہمہ قسم کی ذاتی استعمال کی چیزوں پر زکاۃ نہ ہونے کی دلیل ہے” انتہی
"التوضیح لشرح الجامع الصحیح” (10/ 448)

اور ابن عبد البر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اس حدیث میں فقہی احکام بیان ہوئے ہیں کہ: گھوڑے اور غلام میں زکاۃ نہیں ہے، چنانچہ علمائے کرام نے گھوڑوں اور غلاموں کا یہ حکم دیگر اشیا پر بھی جاری کیا ہے، جس میں کپڑے، بستر، برتن، جواہرات، مکانات، فصل، جانور، اور دیگر گھریلو سامان شامل ہے جسے ذاتی استعمال کیلئے رکھا گیا ہو، تاہم اس میں ذاتی استعمال کا سونا  اور چاندی شامل نہیں ہے، یہ علمائے کرام کا نقطہ نظر ہے، بشرطیکہ ان چیزوں کو تجارت کیلئے نہ رکھا گیا ہو” انتہی
التمهيد (17/125)

نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اس حدیث میں دلیل ہے کہ ذاتی استعمال کی اشیا پر کوئی زکاۃ نہیں ہے۔۔۔ یہی موقف سلف سے خلف تک تمام علمائے کرام کا ہے” انتہی
"شرح صحیح مسلم” (7/55)

ابن حزم کہتے ہیں کہ:
"اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جو چیز ذاتی استعمال کیلئے  ہے اس میں کوئی زکاۃ نہیں ہے، بشرطیکہ تجارت کیلئے نہ ہو، جواہرات، یاقوت، قالین، بستر، کپڑے، پیتل، لوہے یا سلور کے برتن وغیرہ ۔۔۔۔” انتہی
المحلى بالآثار (4/ 13).

خلاصہ

نقدی ، سونا ، اور چاندی کے علاوہ ہر وہ چیز جو انسان اپنے ذاتی استعمال کیلئے رکھتا ہے  اس میں اس وقت تک زکاۃ نہیں ہے جب تک وہ تجارت کیلئے نہ ہو، اس میں گاڑی، اور جائیداد وغیرہ سب شامل ہے۔

واللہ اعلم.

زمرہ: زمرے کے بغیر