پڑھائی کیلئے بیرون ممالک طلباء کا سفر اور وہاں پر اجنبی خاندانوں کے ساتھ رہنے کے خطرات۔

سوال: مجھے انگلش زبان سکھانے والے اسکولوں کی جانب سے نمائندگی کی پیش کش ہوئی ہے، یہ اسکول کینیڈا، آسٹریلیا، برطانیہ، اور امریکہ میں ہیں، مجھے ان اسکولوں کی نمائندگی کچھ عرب ممالک میں کرنے کا ٹاسک دیا جائے گا، جس میں مجھے ان مدارس کیلئے مارکیٹنگ، اور ان ممالک میں اپنی پڑھائی یا ٹریننگ کی تکمیل کے خواہش مند طلباء کی رجسٹریشن ہوگی، اس کے ساتھ ساتھ میری یہ بھی ذمہ داری ہوگی کہ طلباء کی رہائش اسکول، یونیورسٹی، ہوٹل، یا میزبانی کرنے والے خاندان کیساتھ رکھنے کا انتظام بھی کروں، مجھے اس کام پر کمیشن ملے گا، تو کیا یہ کام حلال ہے؟

الحمد للہ:

یہ بات سب پر عیاں ہے کہ طلباء کے بیرون ممالک میزبان خاندان کے ساتھ رہنے  میں متعدد خطرات ہیں، جن میں سے کچھ یہ ہیں:

1-           طلباء کے دین، نظریات، اور ثقافت کو خطرہ ہے، اور اگر طلباء کی چڑھتی جوانی والی عمر ہو تو  یہ خطرات مزید بڑھ جاتے ہیں، جن کی وجہ سے  طلباء ایسے معاشرے کے ہو  کر رہ جاتے ہیں جہاں اخلاقیات، اور نظریاتی انحراف بالکل واضح ہیں، اسی لئے متعدد  مسلمان طلباء ان ممالک سے بے دین، اور اسلامی تشخص کے بغیر واپس آتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ چال چلن  میں منحرف  اور نظریاتی طور پر مریض بن کر لوٹتے ہیں۔
اسی لئے اہل علم نے  مغربی ممالک میں تعلیم حاصل کرنے کیلئے  شرط رکھی ہے کہ اسٹوڈنٹ کے پاس اتنا علم ہو کہ وہ شبہات سے اپنے آپ کو بچا سکے، اور اتنی دینداری ہو جو اسے شہوت سے دور رکھ سکے، ساتھ میں حکومتی سطح پر یا خاندانی سطح پر اتنی نگرانی ضرور ہو جو اسے بیرون ملک انحرافات سے متاثر ہونے سے  بچائے رکھے۔

2-           طلباء کا میزبانی کرنے والے خاندان کے پاس رہائش اختیار کرنا، طالب علم کو مزید خطرات  کے در پیش کر سکتا ہے؛ کیونکہ یہ میزبان گھرانے کے افراد سے اختلاط، انکی عادات سے متاثر ہونے، اور انہی کے نقش قدم پر چلنے کا باعث ہے،  اور بسا اوقات یہ  اِسی گھرانے یا آس پاس کے افراد کیساتھ حرام تعلقات کا موجب بھی بن سکتا ہے۔
اس لئے بیرون ملک وہاں کے گھرانوں کیساتھ رہنے کا حکم  آپ ہماری سائٹ کے سوال نمبر: (13694) کے جواب میں ملاحظہ کریں۔

3-           حصول علم کیلئے اختلاط حرام ہے، اور ان ممالک کے عام اسکول، اور انسٹیٹیوٹ وغیرہ میں اختلاط ہی ہوتا ہے، لہذا ان جگہوں میں بچوں کو  پڑھنے کیلئے ارسال کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ اس طرح سے حرام ، گناہ، اور زیادتی کے کاموں میں انکی اعانت ہوتی ہے۔
اور اختلاط کی حرمت کے بارے میں آپ سوال نمبر: (1200) کا جواب ملاحظہ کریں۔

4-           اور اگر معاملہ لڑکیوں  کی پڑھائی کا ہو تو لڑکیوں کے بارے میں ممانعت مزید شدید ہے؛  کیونکہ لڑکی کو بغیر محرم کے سفر کرنا پڑے گا، جسکی وجہ سے وہ اپنے گھر والوں سے دور رہنے پر مجبور ہوگی، جو اسے فتنوں اور برائی میں مبتلا کر سکتا ہے۔
اس لئے کوئی بھی عقلمند ان ممالک میں اپنے بچوں کو  براہِ راست نگرانی کے بغیر بھیجنے  پر راضی نہیں ہو سکتا، جو انہیں وہاں کے معاشرے ، نظریات، اور ثقافت میں مضمحل اور متاثر ہونے سے روک سکے، حقیقت میں مسلم معاشروں کے انحراف کا یہی لوگ سبب بنتے ہیں جو وہاں سے پڑھ کر آتے ہیں، اور بڑے مناصب پر براجمان ہو کر آگے بڑھتے جاتے ہیں، حالانکہ یہ لوگ اپنے دین اور نظریات سے ہاتھ دھو کر اُنہی رنگ میں رنگے جا چکے ہوتے ہیں، الّا ماشاء اللہ، کوئی ہی بچ پاتا ہے۔

اسلام معاشروں میں مغرب پسندی کی دوڑ  کے بارے میں غور و فکر کرنے والے افراد کیلئے یہ بالکل واضح  ہوگا کہ یہ انہیں لوگوں کا شاخسانہ ہے جو بیرون ممالک پڑھنے کے لئے نکلے، انہی لوگوں کی کاوش ہوتی ہے کہ انکا معاشرہ بھی ویسا ہی اخلاقی طور پر گر جائے جہاں انہوں نے زندگی کے کچھ لمحات گزارے اور اُنہی سے مرعوب ہوگئے۔

اہل علم اور غیرت مند لوگ مسلسل  اسلامی ممالک میں قائم شدہ غیر ملکی اسکولوں سے روکتے رہے ہیں، کیونکہ مغرب پسندی ، اور اسلامی تشخص  کو مٹانے میں ان کا بھی کردار پایا جاتا ہے، تو جو اسٹوڈنٹ  انہی کے ملک میں چلا جائے، اور وہاں پر بالکل آزادانہ ماحول میں رہے  جہاں کوئی پوچھ گچھ کرنے والا نہ ہو، اسکا کیا حال ہوگا؟!

شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے بیرون ممالک میں تعلیم حاصل کرنے کے قواعد و ضوابط ذکر کرتے ہوئے  کہا:
"ہمارے ہاں مصنوعات کی تیاری ، اور دیگر ٹیکنیکل اداروں کے فقدان کی وجہ سے اگر کچھ طلاب کو بیرون ممالک  تعلیم حاصل کرنے کیلئے بھیجنے کی ضرورت   پڑے تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ ایک امانتدار علمی کمیٹی کے ذریعے دیندار، صاحب اخلاق، اور اسلامی روح و ثقافت سے بھر پور جوانوں کو اس کیلئے  منتخب کیا جائے، اور منتخب شدہ طلباء کے گروپ  کے ساتھ ایک ایسے انچارج کو بھیجا جائے جو علم ، صلاحیت، اور دعوتی اعتبار سے  قابل قدر حیثیت رکھتا ہو، اور بیرون ملک دعوت الی اللہ کا کام بھی کرے،  طلباء کے گروپ کی نگرانی بھی کرے، انکی خبر گیری ، اور جانچ پڑتا ل رکھے، اور جہاں کہیں ضرورت پڑے تو انکی صحیح سمت میں رہنمائی  کرتے ہوئے، انکو  در پیش شکوک و شبہات  کے جوابات بھی دے۔
ساتھ میں یہ بھی اقدام کرنا چاہئے کہ  انہیں بیرون ملک ارسال کرنے سے پہلے مختصر سا کورس کروایا جائے جس میں انہیں  متعلقہ ملک میں ممکنہ در پیش ہونے والے مسائل اور شبہات سے نمٹنے کا طریقہ کار  بتلایا جائے، انہیں اسلامی شریعت کی روشنی میں  اسلامی تعلیمات بتلائی جائیں، ساتھ میں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے ماخوذ شرعی احکامات  کی حکمتیں اہل علم  کی گفتگو سے  بتلائی جائیں، انہیں  اسلام میں  غلاموں ،  ایک سے زائد شادی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی متعدد شادیاں، طلاق کے احکام، دفاعی اور ہجومی جہاد کی حکمتیں، نیز دیگر  وہ تمام اشکالات  جو دشمنان اسلام مسلم نوجوانوں پر پیش کرتے ہیں، سب کے سب انہیں ازبر کر وائے جائیں، تا کہ اگر انہیں کوئی شکوک و شبہات میں ڈالنے کی کوشش کرے تو وہ اسکا جواب دینے کیلئے مکمل طور پر تیار ہوں” انتہی
"فتاوى شيخ ابن باز” (1/387)

اور دائمی  فتوی کمیٹی کے علمائے کرام کا کہنا ہے کہ:
"اگر  حقیقت ایسے ہی ہے جیسے آپ نے ذکر کی ہے کہ جس تخصص کی تعلیم آپ حاصل کر رہے ہیں وہ آپکے اسلامی ملک میں موجود ہے، اور بیرون ملک پڑھائی دینی، اور اخلاقی اعتبار سے  بیوی، بچوں کیلئے بہت سی خرابیوں کا باعث ہے، تو آپ کیلئے اس تخصص کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے باہر جانا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ  اسلامی ملک میں تخصص کی تعلیم موجود ہونے کے باوجود  آپکو باہر جانے کی ضرورت نہیں رہتی ، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے بغیر کسی شرعی عذر  کے متعدد احادیث کے مطابق کفار کے علاقوں میں رہنے سے منع فرمایا ہے، مثلاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے: (میں ہر اس مسلمان نے بری الذمہ ہوں جو مشرکوں  کے درمیان مقیم ہے) اسکے علاوہ دیگر احادیث بھی ہیں، مسلمانوں کی طرف سے کفار کے علاقوں میں بغیر کسی ضرورت کے سفر کرنے کا معاملہ ایسا تساہل ہے  جو دین الہی میں قابل قبول نہیں ہے، یہ حقیقت میں دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے کے مترادف ہے، اور اللہ تعالی کا فرمان ہے:
( بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا ٭ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَى )  
ترجمہ: بلکہ تم دنیا کی زندگی کو  ترجیح دیتے ہو، ٭ [حالانکہ] آخرت کی زندگی بہتر اور ابدی ہے۔[الأعلى:16 – 17]
اسی طرح فرمایا:
( قُلْ مَتَاعُ الدَّنْيَا قَلِيلٌ وَالآخِرَةُ خَيْرٌ لِّمَنِ اتَّقَى وَلاَ تُظْلَمُونَ فَتِيلاً )
ترجمہ: آپ کہہ دیں: متاعِ دنیا تو تھوڑا سا ہے، جبکہ آخرت متقی لوگوں کیلئے بہت بہتر ہے، اور [وہاں] تم پر ایک دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔[النساء:77]

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے کہ:
 (جسے آخرت کا فکر ہو اللہ تعالی اس کے بکھرے ہوئے کاموں کو جمع کر دیتا ہے اور  اس کا دل غنی کر دیتا ہے اور دنیا اس کے پاس ذلیل ہو  کر آتی ہے اور جسے دنیا کی فکر ہو اللہ تعالی محتاجی اس کی دونوں آنکھوں کے سامنے کر دیتا ہے اور اس کے مجتمع کاموں کو منتشر کر دیتا ہے اور دنیا بھی اسے اتنی ہی ملتی ہے جتنی اس کیلئے لکھ دی گئی ہے)”
"فتاوى اللجنة الدائمة” (26/93)

اس بنا پر  جب تک آپ کسی کی دینداری  دیکھ نہ لیں، اور بیرون ملک  سفر خطرات سے پاک بھی ہو  تو تب ہی  بیرون ملک پڑھائی کیلئے ترغیب دے سکتے ہیں، اور انکے ساتھ تعاون بھی کر سکتے ہیں، اور یہ اسی وقت ہوگا کہ  طلباء  ایک ایسے وفد میں شریک ہوں  جن کی مکمل طور پر نگرانی کی جائے، یا طلباء کی عمر ، علم، اور دینداری اتنی  مضبوط ہو کہ وہ شبہات و شہوات کا شکار نہ ہو پائے۔

واللہ اعلم.

زمرہ: زمرے کے بغیر