گاؤں میں رہنے والے لوگ حنفی ہیں اور نماز عید دیر سے پڑھتے ہیں تو کیا اکیلے عید کی نماز پڑھ لیں؟

سوال: میں انڈیا کے گاؤں میں رہتا ہوں جہاں کی آبادی تقریباً پانچ ہزار ہے، اور صرف پچاس افراد کے علاوہ سب کے سب لوگ مسلمان اور حنفی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں، بقیہ پچاس سلفی ہیں اور میں ان پچاس میں سے ایک ہوں۔
گاؤں کے مرد جن کی تعداد تقریباً 2000 ہو گی عید الفطر اور عید الاضحی کی نماز دن گیارہ بجے تک مؤخر کرتے ہیں، ان کا نماز پڑھنے کا طریقہ بھی الگ ہے، اس بنا پر ہم پچاس افراد نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم الگ سے عید نماز پڑھتے ہیں ان کے ساتھ شامل نہیں ہوتے، تو اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا ہمارا فیصلہ درست ہے؟ یا بہتر یہی ہے کہ تمام اختلافات کے باوجود ان کے ساتھ ہی رہیں اور اکٹھے عید نماز ادا کریں؟ امید ہے کہ آپ جواب سے نوازیں گے، اور علمائے کرام کے اقوال بھی جواب میں ذکر کرینگے۔

الحمد للہ:

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ آپ سب کو حق بات پر متحد فرمائے اور اپنی اطاعت گزاری کیلیے سب کے دلوں میں الفت ڈال دے، ہمیں خوشی ہو گی کہ عقائد، احکامات، اور معاملات میں ہم سب مسلمانوں کو سلف صالحین کے منہج پر گامزن دیکھیں؛ کیونکہ سلف صالحین کی اتباع میں ہر قسم کی خیر پنہاں ہے۔

آپ کیلیے یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ مسلمانوں سے علیحدگی اختیار کرنا بھی سلف صالحین کے منہج میں شامل نہیں ہے، بلکہ مسلمانوں میں باہمی اتحاد اور یگانگت  عظیم ترین شرعی مقاصد میں سے ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
{وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ}
ترجمہ:  اور اللہ کی  رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو اس نے تم پر اس وقت کی جب تم  ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ پھر اللہ نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی تو تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی بن گئے۔ اور تم تو آگ کے گڑھے کے کنارے پر کھڑے تھے کہ اللہ نے تمہیں اس سے بچا لیا۔ اللہ تعالیٰ اسی انداز سے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ تم راہ راست کو پاسکو [آل عمران: 103]

باہمی اتفاق و اتحاد کی ضرورت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب فقہی اور فروعی مسائل  میں اختلاف پیدا ہو؛ کیونکہ سلف صالحین کا اس معاملے میں منہج بہت وسیع ہے، بلکہ آپ کے ذکر کردہ مسئلے سے بھی بڑے بڑے مسائل میں اختلاف کے با وجود باہمی اتفاق و اتحاد کو ترجیح دیتے تھے؛ کیونکہ سلف صالحین کے ہاں ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا بھی درست ہے  جس کے ہاں کوئی ناقض وضو چیز وضو ٹوٹنے کا باعث نہ بنے! مثال کے طور پر اونٹ کا گوشت کھانے سے  وضو ٹوٹنے  کے متعلق اختلاف ہے، اور نماز کے بعض ارکان رہ جانے کے متعلق اختلاف ہے! جیسے کہ احناف کے ہاں سورہ فاتحہ کی تلاوت نماز میں رکن نہیں ہے۔ اسی طرح سلف صالحین کے ہاں بسم اللہ کو سورہ فاتحہ کا حصہ سمجھنے والا شخص ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے جو اسے سورہ فاتحہ میں شامل نہیں سمجھتا، اسی طرح اور بھی بہت سی مثالیں ہیں جنہیں یہاں ذکر کرنا  ممکن نہیں یہاں بطور مثال ہی چند مسائل ذکر کیے ہیں۔

اس بارے میں علمائے کرام کے مزید اقوال جاننے کیلیے  سوال نمبر: ( 59925 ) ، ( 12585 ) اور ( 66613 ) کے جوابات ملاحظہ کریں۔

یہ سب باتیں اس وقت ہیں جب آپ اور آپ کے مخالفین حنفی بھائیوں کے ہاں حقیقی طور پر اختلاف موجود ہو ، لیکن اگر حقیقت میں آپ اور ان کے درمیان کوئی اختلاف ہی نہ ہو تو اس وقت کیا ہونا چاہیے!؟ کیونکہ جس وقت میں حنفی بھائی نماز ادا کرتے ہیں وہ سب کے ہاں اجماعی طور پر عید کا وقت ہے! اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام فقہی مذاہب کے ہاں عیدین کی نماز کا وقت  زوال شمس  تک ہے، یعنی ظہر کی نماز کے قریب  تک ہے۔

اگرچہ عید کی نماز کا وقت شروع ہونے کے بارے میں قدرے اختلاف ہے ، چنانچہ جمہور مالکی، حنفی، اور حنبلی فقہائے کرام  کے ہاں عید کی نماز کا وقت اس وقت شروع ہوتا ہے جب سورج ایک نیزے کے برابر بلند ہو جائے، جبکہ شافعی علمائے کرام کے ہاں عید نماز کا وقت سورج طلوع ہونے سے ہی شروع ہو جاتا ہے۔

” الموسوعة الفقهية ” ( 27 / 243 ) میں ہے کہ:
"جمہور فقہائے کرام -حنفی ، مالکی، حنبلی-  اس بات کے قائل ہیں کہ عیدین کی نماز کا وقت اس وقت شروع ہو جائے گا جب آنکھ کے دیکھنے سے پتا چلے کہ سورج  ایک نیزے کے برابر  بلند ہو چکا ہے، یہ وہی وقت ہے جب [ممانعت کے وقت کے بعد]نفل نماز پڑھنا جائز ہو جاتا ہے، اور یہ وقت ابتدائے زوال تک جاری و ساری رہتا ہے۔
جبکہ شافعی فقہائے کرام کا کہنا ہے کہ : عید نماز کا وقت سورج طلوع ہونے سے لیکر زوال شمس تک ہے، عید نماز کا وقت سورج طلوع ہونے سے شروع ہونے کی دلیل یہ ہے کہ: کسی سبب کی وجہ سے پڑھی جانے والی نماز  میں ایسے اوقات کا خیال نہیں رکھا جاتا جن میں نماز پڑھنا جائز نہ ہو” انتہی
اس بنا پر ان بھائیوں  کے عمل کے جائز ہونے میں کوئی اختلاف ہی نہیں ہے، ان کی نمازِ عید اپنے وقت پر ہے، تاہم انہیں عید الاضحی کی نماز پہلے ادا کرنے کی نصیحت کی جائے تا کہ بعد میں قربانی کرنے کیلیے کافی وقت میسر آ سکے، دوسری جانب عید الفطر کو مؤخر کر کے ادا کرنے  میں بھی کوئی حرج نہیں ہے تا کہ مسلمان آسانی سے فطرانہ مستحقین میں تقسیم کرسکیں؛ کیونکہ فطرانہ تقسیم کرنے کا بہترین وقت عید کے دن کی فجر سے لیکر نماز عید تک ہوتا ہے۔

ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"عید الاضحی کی نماز جلدی پڑھنا مسنون ہے تا کہ قربانی کا وقت زیادہ ہو جائے اور عید الفطر کی نماز تاخیر سے پڑھنا  بہتر ہے تا کہ فطرانہ ادا کرنے کا وقت  زیادہ ہو جائے، یہ امام شافعی کا موقف ہے اور مجھے اس کے بارے میں کسی کے اختلاف کا علم نہیں ہے، ۔۔۔ ویسے بھی ہر عید کے دن کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہے  چنانچہ عید الفطر کے دن عید نماز سے پہلے فطرانہ دینے کی ذمہ داری ہے تو عید الاضحی کے دن نماز کے بعد قربانی کرنے کی ذمہ داری ہے، اور عید الفطر میں تاخیر جبکہ عید الاضحی میں جلدی کرنے سے ان ذمہ داریوں کی ادائیگی کا وقت وسیع ہو جاتا ہے” انتہی
” المغنی ” ( 2 / 232 )

لہذا آپ سب کیلیے ہماری نصیحت  یہ ہے کہ عیدین، جمعہ، اور پنج وقتہ نمازوں کیلیے ایک ہی امام کے پیچھے گاؤں کے لوگوں کے ساتھ مل کر نماز ادا کریں، اور اپنے آپ کو مسلمانوں میں تفریق کا باعث مت بنائیں۔

کیونکہ سلف صالحین کا منہج  مسلمانوں میں تفریق اور پھوٹ ڈالنے کا سبب نہیں ہو سکتا، لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ آپ لوگوں کو عبادات کا صحیح طریقہ بتلانے سے  رک جائیں، تاہم آپ ایسے مسائل میں فرق کریں جہاں اختلاف کی گنجائش ہوتی ہے اور جہاں گنجائش نہیں ہوتی۔

مسلمانوں کے مذہبی شعائر جمعہ اور باجماعت نمازوں میں ایسی کوئی بات نہیں ہے جن کی وجہ سے آپ اور دیگر فقہی مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان میں پھوٹ اور تفریق پیدا ہو۔

مندرجہ بالا سطور میں جن فتاوی کی جانب ہم نے آپ کی رہنمائی کی ہے انہیں پڑھیں ان میں اس بارے میں کافی وافی وضاحت موجود ہے۔

اللہ تعالی آپ کو نیکی کی توفیق دے اور آپ  کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔

واللہ اعلم.

زمرہ: زمرے کے بغیر