براہ کرم عطیہ دے کر ہمارے کام کو برقرار رکھنے اور ترقی دینے میں مدد کریں۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔
ايك شخص سركارى دفتر ميں افيسر تھا، اور اس كے پاس غير قانونى طور پر كچھ اشياء آتى تھيں، پھر اللہ تعالى نے اسے صراط مستقيم پر چلنے كى توفيق عطا فرمائى.
لہذا اسے ان اشياء كا كيا كرنا چاہيے جو اس نے كسى اور جگہ پر صرف كرديں ہيں، يہ علم ميں رہے كہ اس كى تعداد كا علم نہيں ؟
الحمد
للہ :
اس پر واجب ہے كہ
وہ ہر شخص يا اس كے ورثاء كو اس كا حق ادا كرے، اگر كسى بھى طريقہ سے وہ شخص نہ مل
سكے تو اسے اس مال كو اصل مالك كى طرف سے صدقہ كردينا چاہيے.
اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے .
