میں نے حج کے بعد بارہ تاریخ کوچاربجے سہ پہر کی سیٹ اوکے کروا رکھی تھی اورمیرا خیال تھا کہ میں اس دن کی رمی کرلوں گا ، لیکن مجھے یہ ڈرپیدا ہوا کہ اگرمیں نے زوال کے بعد رمی کی توسفر سے رہ جاؤں گا لھذا میں نے صبح ہی رمی کرلی اورطواف وداع کرکے سفر کرگيا ، لھذا مجھ پرکیا واجب آتا ہے ؟

الحمد
للہ :

شیخ ابن عثيمین
رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

زوال سے قبل رمی کرنا جائزنہیں ہے ،
لیکن یہ ممکن ہے کہ اس حالت میں ضرورت کی بنا پراس سے ہم رمی ساقط کردیں اوراسے ہم
یہ کہیں کہ :

آپ پرایک بکرا فدیہ لازم آتا ہے جومکہ
میں ذبح کرکے وہاں کے مساکین میں تقسیم کیا جائے ، یا پھرآپ کسی کووکیل بنا دیں جووہاں
آپ کی جانب سے ذبح کرکے تقسیم کردے
 .