میں نے ایک بوڑھے شخص کی جانب سےکنکریاں ماریں لھذا مجھ پرکیا لازم آتا ہے ؟

الحمد
للہ :

اگرتویہ شخص ازدھام
اورمشقت کی وجہ سے خود رمی نہيں کرسکتا تھا اوراس نے آپ کورمی کرنے کا وکیل بنایا
توآپ کےلیے اس کی جانب سے رمی کرنا جائزہے ، اورآپ نے یہ ذکر بھی کیا ہے کہ وہ بوڑھا
شخص تھا توغالبا یہی ہے کہ وہ شخص خود رمی نہيں کرسکتا تھا ۔

فتاوی اللجنۃ الدائمۃ میں ہے کہ :

جوکوئي بھی رمی کرنے سے عاجز ہووہ
کسی دوسرے کواپنی جانب سے رمی کرنے کا وکیل بنائے ، اس معاملہ میں جمرہ عقبہ
اوردوسرے جمرات سب برابر ہيں ، اورکسی ثقہ شخص کوکنکریاں مارنے میں وکیل اسی برس
بنانا چاہیے ۔۔۔ اھـ

دیکھیں : فتاوی اللجنۃ الدائمۃ
للبحوث العلمیۃ والافتاء ( 11 / 286 ) ۔

تواس بنا پرآپ کوبوڑھے شخص کی جانب
سے رمی کرنا صحیح ہے اوراس کی رمی ہوگئي ہے اورآپ کے ذمہ کچھ لازم نہيں آتا ۔

اورآپ کویہ چاہیے کہ پہلے آپ اپنی
جانب سے رمی کریں اورپھراس دوسرے شخص کی جانب سے ، آپ کوہرجمرہ ( ستون ) پراسی طرح
کرنا چاہیے کہ پہلے اپنی کنکریاں ماریں اورپھراس شخص کی جانب سے ، آپ کےلیے یہ لازم
نہيں کہ پہلے آپ اپنی جانب سے تینوں جمرات کوکنکریاں ماریں اورپھر اس دوسرے شخص کی
جانب سے ۔

بلکہ آپ کےلیے یہ ممکن ہے کہ آپ ایک
جگہ کھڑے ہوکرآپ اپنی اوراس شخص کی جانب سے ہرجمرہ کرکنکریاں مارسکتے ہیں ، لیکن
صرف اتنا ہے کہ آپ اپنی کنکریاں پہلے ماریں ۔

آپ مزید تفصیل کےلیے سوال نمبر (
36853 ) کے جواب کا مطالعہ ضرور کریں ۔

واللہ اعلم
 .