اللہ تعالی کے اسم ” المقدم اور المؤخر ” کا معنی کیا ہے ؟


الحمد للہ

اللہ سبحہانہ وتعالی ہی ہے جوکہ کسی چیز کوبھی جس کا حکما اورفعلا مقدم کرنا ضروری
ہوجس طرح اورجیسے اسے پسند ہو مقدم کرتا ہے ، اورجسے وہ مقدم کرے وہی مقدم اورجسے
مؤخر کرے وہی مؤخر ہے ، وہ اللہ تبارک وتعالی جسے مؤخرکرنا ضروری ہو اسے مؤخر کرتا
ہے ، پھر بھی ہے کہ اللہ تعالی جوبھی کرتا ہے اس میں اصلاح اور حکمت ہے اگرچہ ہم پر
اس کی اصلا ح اور حکمت واضح نہ بھی ہو ۔

وہ اللہ سبحانہ وتعالی ہی ہرایک چیز کو اس کے منزل ومرتبہ پر اتارتا اور جوچاہے
مقدم کرے اورجو چاہے مؤخر کرے ، اس نے مخلوقات کوپیدا کرنے سے بھی پہلے اس کی تقدیر
کو مقدم کیا ، اور اپنے اولیاء میں سے جسے پسند فرمایا اسے اپنے دوسرے بندوں پر
مقدم کردیا ، اورمرتبہ ودرجات کے اعتبار سے مخلوق کوایک دوسرے سے بلندی عطا کی ،
اورکچھ کواپنی توفیق سے سابقین کا کے مقام ومرتبہ پر پہنچا دیا ، اور جس کوچاہا اس
کے مرتبہ میں کمی کردی اور اسے مؤخر کردیا ، اور کسی چيز کو اس کے وقوع سے مؤخر
کردیا کیونکہ اس کے علم میں اس کا انجام تھا اور اس میں کوئ حکمت پائ جاتی تھی ، تو
اللہ تعالی جسے مؤخر کردے اسے کوئ مقدم کرنے والا نہیں اورنہ ہی جسے اللہ تعالی
مقدم کردے اسے کوئ مؤخر کرسکتا ہے ۔

اورتقدیم دو چیزوں پر مشتمل ہے :

التقدیم الکونی : اورالتقدیم الشرعی ؛

تقدیم الکونی : مثلا ، مخلوقات میں سے بعض کی تقدیم ، اور اسباب کوان کے مسبب
اورشروط ان کےمشروط سے مقدم کرنا ۔

اورتقدیم الشرعی : مثلا ، بعض انبیاء کی دوسرے انبیاء پر فضیلت ، اور انبیاء کی
باقی ساری مخلوق پر فضیلت اوراسی طرح بندوں کی ایک دوسرے پر فضیلت ، تو یہ سب کچھ
اللہ تعالی کی حکمت کے تابع ہے ۔

ابن قیم رحمہ اللہ تعالی کا قول ہے :

اور وہ اللہ تعالی ہی مقدم ومؤخر ہے ،تو یہ دونوں صفتیں افعال کی تابع ہیں ، اور
یہ دونوں صفتیں ڈاتی ہیں جوکہ ذات کے علاوہ کسی غیر کے ساتھ قائم نہیں ۔ .