خاوند چہرہ ڈھانپنے کی وجہ سے طلاق دینا چاہتا ہے ، اوردوسری کوحقیقتا اس کےخاوند نے بال ڈھانپنے کی صورت میں طلاق کی دھمکی دے دی ، وہ کسی اورملک میں رہتے ہیں ، توکیا اسے اکراہ شمار کیا جائے گا اورپہلی یا دوسری حالت میں بال اورچہرہ ننگا رکھنا مباح ہوگا ؟

الحمدللہ

ہم نے مندرجہ بالا سوال فضیلۃ الشيخ محمد بن
صالح عثیمین رحمہ اللہ تعالی کے سامنے پیش کیا تو ان کا جواب تھا :

اگرتویہ تیسری طلاق ہے توپھر وہ کرسکتی ہے ، اس لیے کہ اس میں رجوع کا حق نہیں
اوربیوی کومکرہ ( یعنی اس پر جبر کیا گیا ہے ) جائے گا ، اور اگروہ پہلی یا دوسری
طلاق ہو توپھر بیوی کوخاوند کی بات تسلیم کرتے ہوئے اپنے بال اورچہرہ ننگا نہیں
کرنا چاہیے ، اورخاوند ہی سب سے پہلے نادم ہوگا ۔

بیوی کے چاہیے کہ وہ اپنے بال اورچہرہ ڈھانپے رکھے ، ہم اللہ تعالی سے اس عورت
کے لیے ثابت قدمی اوراس کے خاوند کے لیے ھدایت کی دعا کرتے ہیں ۔

واللہ تعالی اعلم .