میں ایک اسلامی اسکول میں پڑھاتا ہوں، اور ہمارے ساتھ ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے غیر مسلم اساتذہ بھی ہیں، تو ہم سب کرسمس کی مناسبت سے ایک ہال میں جمع ہوتے ہیں، اور حلال کھانا تیار کرواتے ہیں، جس میں شراب نہیں ہوتی، یہ بات واضح رہے کہ ہم کھانے پر جمع ہونے کا وقت جان بوجھ کر کرسمس سے ایک ماہ یا اس سے بھی زیادہ عرصہ کے بعد رکھتے ہیں، صرف اس لئے کہ ہم پر انکی عید میں شرکت کا شبہ بھی نہ آئے؛ تو کیا ہم مسلمانوں کو ان کے ساتھ اس کھانے میں شریک ہونا چاہیے؟ اور کھانا بنانے میں ہم بھی ان کے ساتھ برابر کے شریک ہوتے ہیں۔

الحمد للہ:

اول:

اللہ تعالی نے ہمارے لئے اہل کتاب کا کھانا جائز قرار دیا ہے، چاہے یہ دعوت کی شکل
میں ہو یا مہمان نوازی، یا تحفہ یا ضرورت کے مطابق کسی اور شکل میں ، یا لوگوں میں 
عام رواج کی صورت میں،  نبی صلی اللہ علیہ وسلم  سے ثابت ہےکہ آپ نے یہود کی دعوت
قبول کی اور انکا کھانا تناول فرمایا ۔

لیکن ان کی دعوت قبول کرنے کا مقصد ان کی دوستی،محبت  اورچاہت نہیں
ہونا چاہیے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:
(
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى
أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ
فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ

)
ترجمہ:  اے ایمان والو! یہود و نصاری کو اپنا دوست مت بناؤ، یہ سب آپس میں ملے ہوئے
ہیں، اور تم میں سے جو کوئی ان کیساتھ دوستی رکھے  گا  تو وہ بھی انہی میں سے ہے،
بیشک اللہ تعالی ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔[ المائدة:51]

اور اسی طرح اللہ تعالی کا فرمان ہے:
(
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِنْ دُونِكُمْ لا
يَأْلُونَكُمْ خَبَالاً وَدُّوا مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ
أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الآياتِ
إِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُونَ)

ترجمہ:  اے ایمان والو! تم اپنا گہرا دلی دوست ایمان والوں کے سوا اور کسی کو نہ
بناؤ وہ تمہارے نقصان کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑتے،  وہ تو چاہتے ہیں کہ تم دکھ میں
پڑے رہو،  ان کی عداوت ان کی زبان سے ظاہر ہو چکی ہے اور جو ان کے سینوں میں پوشیدہ
ہے وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے!،  ہم نے تمہارے لیے آیات بیان کر دیں تاکہ تم سمجھ جاؤ
۔[آل عمران: 118 ]

شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:
"اگر کوئی مسلمان  کسی عیسائی یا غیر مسلم کیساتھ کھا  پی لے تو کیا  یہ حرام ہے؟
اور اگر یہ حرام ہے تو ہم فرمانِ باری تعالی :

(
وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَهُمْ)ترجمہ:
"جن لوگوں کو کتاب دی گئی ہے انکا کھانا تمہارے لئے حلال ہے، اور تمہارا کھانا ان کیلئے
حلال ہے”کے بارے میں کیا کہیں گے؟
تو انہوں نے جواب دیا:
اگر شرعی مصلحت یا ضرورت پیش نظر ہو تو کافر کیساتھ بیٹھ کر کھانا حرام نہیں ہے،
لیکن آپ انہیں دوست مت بنائیں کہ آپ ان کے ساتھ کسی شرعی سبب  اور شرعی مصلحت کے
بغیر ہی بیٹھ کر کھانا شروع کر دیں، آپ ان کے ساتھ انس پیا ر و محبت مت رکھیں، ان
کے ساتھ بیٹھ کر ہنسی مذاق مت کریں، ہاں اگر میزبان بن کر غیرمسلم مہمان کیساتھ
بیٹھ کر کھانا کھانے کی ضرورت ہے، یا انہیں اللہ کی طرف دعوت دینا ، اور اسلام کی
رہنمائی کرنا مقصود ہے،یا کوئی اور شرعی نقطہ نظر  ہو تو پھر ان کے ساتھ کھانے میں
کوئی حرج نہیں۔
اور ان کا کھانا  ہمارے لئے حلال ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم انہیں اپنے ساتھی
اور دوست بنا لیں، اور نہ ہی اسکا مطلب یہ ہے کہ ہم بغیر کسی ضرورت اور شرعی مصلحت
کے بغیر ہی ان کے ساتھ کھانے پینے میں شراکت شروع کر دیں۔
 اللہ تعالی ہی توفیق دینے والا ہے” انتہی
"فتاوى الشيخ ابن باز” (9/ 329)

دوم:

کرسمس
سمیت کسی بھی کافرانہ تہوار منانا ، انکی محفلوں میں شرکت کرنا، اور انہیں انکے
تہوار پر مبارک باد دینا بالکل بھی جائز نہیں ہے۔

مزید کیلئے  سوال نمبر: (947) اور سوال نمبر: (145950)
کا مطالعہ کریں۔

کسی بھی تہوار کو منانے یا جشن  منعقد کرنے کی صورتوں میں یہ بھی شامل ہے کہ: ان
تہواروں میں کھانے کیلئے اکٹھے ہوں، یا جشن منانے والوں کیلئے کھانا تیار کیا جائے؛
کیونکہ یہ عمل کسی بھی تہوار کو منانے کا واضح ترین مظہر ہے، اور یہ بات سب کے ہاں
مشہور و معروف بھی ہے۔

اگر کھانا کی تیاری میں مشرکین کے تہوار کا خیال رکھا جائے، اور پھر تہوار کے دن کو
چھوڑ کر کم و بیش ایک ماہ  پہلے ہی یہ کھانا اکٹھے ہو کر تناول کر لیا جائے تو اس
سے اس کھانے کا حکم تبدیل نہیں ہوگا، اور یہی حکم اس صورت کا بھی ہے کہ مشرکین کے
تہوار میں ان کیساتھ اکٹھے نہ ہوں لیکن کسی اور دن اسی تہوار کی مناسبت سے تقریب
منعقد کی جائے تو تب بھی حکم تبدیل نہیں ہوگا۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"لفظ "عید” اسم جنس ہے، اس میں ہر وہ دن یا جگہ شامل ہے جس میں لوگ اکٹھے ہوتے ہیں،
اسی طرح ان اوقات اور مقامات پر کئے جانے والے اعمال بھی "عید” میں شامل ہوتے ہیں،
چنانچہ ممانعت مشرکین کے تہوار والے دن کیساتھ مختص نہیں ہے، بلکہ ان تمام اوقات و
مقامات کے بارے میں ہے جن کے متعلق اسلام میں کوئی دلیل نہیں ہے، اور ان تہواروں
میں کیے جانے والے اعمال کے بارے میں بھی ممانعت ہے ۔
اسی طرح  عید سے پہلے یا بعد  کا ایک دن جس میں تہوار سے متعلق امور سر انجام دیے
جاتے ہیں ، مقامِ تہوار سے ملحقہ جگہیں جہاں پر تہوار کیلئے کام کیا جاتا ہے، یا 
ایسے امور جنکی وجہ سے تہوار کے معاملات منسلک ہیں ، ان سب کا حکم اور تہوار کا حکم
یکساں ہی ہے، اس لئے کفار کے تہوار سے متعلقہ کوئی کام بھی نہ کیا جائے؛ کیونکہ کچھ
لوگ کفار کے تہوار کے دن  کچھ نہیں کرتے لیکن اپنے بچوں کو یہ کہہ کر تسلی دے دیتے
ہیں کہ : میں تمہارے لئے یہ سب کچھ آئندہ ہفتے یا کسی دوسرے ماہ میں تیار کر
دونگا؛  اس لئے کہ اس کام کیلئے ترغیب کا باعث بھی کفار کی عید ہی ہے، اگر کفار کی
عید نہ ہوتی تو یہ فرمائش بھی نہ کی جاتی، اور یہ بات کفار سے مشابہت کا تقاضا کرتی
ہے۔
اس سے بچنے کیلئے بچوں کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سی دی گئی عید  کا حوالہ دیا
جائے، اور ان دو عیدوں میں ان کے تمام جائز حقوق پورے کیے جائیں جن کی وجہ سے انہیں
کسی اور کی عید کی طرف دیکھنے کی ضرورت ہی نہ پڑے، اور اہل و عیال پھر بھی راضی نہ
ہوں تو  نیکی کرنے کی طاقت اور برائی سے بچنے کی ہمت  اللہ ہی دینے والا ہے، جو شخص
اپنے گھر والوں کو اللہ کیلئے ناراض کر دے تو اللہ تعالی  اس شخص کو بھی راضی کر دے
گا، اور اسکے اہل خانہ کو بھی راضی کر دے گا” انتہی
"اقتضاء الصراط المستقیم” (2/5-6)

خلاصہ یہ ہوا کہ :

سوال میں مذکور کھانے کیلئے جمع ہونا جائز نہیں ہے، اور یہ عیسائیوں کیساتھ انکی
باطل عید میں شرکت کے مترادف ہے، اوران موقعوں پر مسلمانوں کی طرف سے کھانا بنانے
کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا، چاہے مسلمانوں کی طرف سے کھانا بنانے میں صرف تعاون  ہی
کیوں نہ ہو، کیونکہ اس سے حکم میں تبدیلی نہیں ہوگی۔

واللہ اعلم.