كيا كوئي ايسا ہے جومجھے مندرجہ ذيل صورت ميں وراثت كا اسلامي حكم بتا سكے ؟ :

ميرے والد صاحب فوت ہوچكےہيں اور انہوں نے اپنےپيچھے چار بيٹے اور تين بيٹياں اور ميري والدہ جوكہ ابھي تك بقيد حياۃ ہے سوگوار چھوڑے ہيں .

الحمد
للہ :

جس مسئلہ كےمتعلق
آپ نےسوال كيا ہے اس كي تقسيم مندرجہ ذيل ہوگي :

بيوي كو آٹھواں حصہ ملےگا اس ليےكہ
ميت كي اولاد ہے اس كےبارہ ميں اللہ تعالي كا فرمان ہے:

{اگر تمہاري اولاد ہو تو كچھ تم چھوڑ
كرجاؤ انہيں اس كا آٹھواں حصہ ملےگا اس وصيت كےبعد جوتم نےكي ہو ياقرض ( كي ادائيگي
) كےبعد} النساء ( 12 )

اورباقي سات حصوں كو برابر گيارہ حصوں
ميں تقسيم كركيا جائےگا اور ہر لڑكےكو دو حصے اور ہر ايك لڑكي كوايك حصہ ملےگا
كيونكہ اللہ تعالي كا فرمان ہے :

{اللہ تعالي تمہيں تمہاري اولاد
كےبارہ ميں حكم ديتا ہے مرد كوعورت كے دو حصوں كےبرابر ملےگا} النساء ( 11 )

مثال كي تفصيل اور وضاحت :

اگر ميت نے مال اور جائداد چھوڑي جس
كي مجوعي قيمت مثلا ( 88000 ) ڈالرہو اگر اس كےذمہ كوئي قرض نہيں اور نہ ہي اس نے
كوئي وصيت كي ہے تو ہم اس كي تقسيم مندرجہ ذيل طريقہ سےكرينگے:

بيوي كو آٹھواں ( 1/ 8 ) حصہ يعني (
11000 ) ڈالر ملےگا .

اور باقي ستہتر ہزار( 77000 ) ڈالر
كےگيارہ حصے كرينگےتاكہ لڑكے كو لڑكي سےڈبل حصہ مل سكے :

88000 – 11000 = 77000 / 11 = 7000

توايك بيٹے كا حصہ چودہ ہزار ڈالر
بنےگا.

اور ہر لڑكي كا حصہ سات ہزار ڈالربنےگا
.

واللہ اعلم
 .