براہ کرم عطیہ دے کر ہمارے کام کو برقرار رکھنے اور ترقی دینے میں مدد کریں۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔
اگر حافظ قرآن اشعرى عقيدہ ركھے تو كيا اسے امامت كے مقدم كيا جائيگا يا نہيں ؟
الحمد للہ:
اگر وہ اپنى بدعات كى دعوت نہيں ديتا
اور جب اسے حق معلوم اور واضح ہو جائے تو جھگڑا نہيں كرتا تو اسے امامت كے ليے آگے
كرنے ميں كوئى حرج نہيں، وگرنہ اس كے علاوہ كوئى اور شخص بہتر ہے، چاہے وہ اس سے كم
حفظ والا ہى ہو.
واللہ اعلم .
