سوال نمبر ( 3402 ) میں ہے کہ کچھ بینک کارڈ کمپنیاں یہ کارڈ ( کریڈٹ کارڈ ) استعمال کرنے والوں کو بطور انعام کچھ مال دیتی ہیں ، توکیا یہ انعامات حاصل کرنے حلال ہیں یا کہ سود میں شامل ہوتے ہیں ؟

کیا ثابت ایگریمنٹ خریدنے جائز ہیں – یعنی حکومت اصل مال تجارت اورمختلف منصوبوں میں استعمال کرتی اورمقررہ تناسب مثلا ٪ 6 فیصدکے حساب سےفکس نفع دیتی ہے توکیا یہ مقررکردہ فکس نفع سود شمار ہوگا ؟

آپ سے گزارش ہے کہ کتاب وسنت کی روشنی میں اس مسئلہ کی وضاحت فرمائيں ۔

الحمدللہ

اول :

سودی بنکوں کےساتھ بغیر ضرورت معاملات کرنے جائزنہيں ہیں ، اس لیے کہ ان کے ساتھ
معاملات کرنا گناہ اورزیادتی وظلم میں تعاون ہے ، اوروہ اپنے ساتھ تعاون کرنے پرابھارنا
اورتیار کرنے کے لیے ان کا انعامات دینا حرام کام کرنے پرابھارنا ہی ہے اوروہ حرام
کا کا ہی حکم رکھتا ہے ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ اورنیکی وبھلائي کے معاملے میں ایک دوسرے کا تعاون کیا کروں ، اورگناہ ودشمنی
میں تعاون نہ کرو } ۔

دوم :

مضمون نفع جائز نہیں ( یعنی جس میں صرف نفع ہی کی ضمانت دی جائے اورنقصان نہ ہو)
جبکہ شرعی قاعدہ ہے ۔۔۔ اورنقصان نقصان کےساتھ ہے ، اورجب حکومت لوگوں سے قرض لیتی
اورانہیں مقررہ فکس تناسب سے نفع دیتی ہے تویہ حرام سودی سندیں ہیں اور مطلق طور پر
یہ عمل کرنا حرام ہے ۔

واللہ اعلم .