میں اورخاوند ایک دوسرے سے بہت زيادہ محبت کرتے ہیں ، وہ مجھے عجیب وغریب سی باتیں کہتا ہے مثلا ( تیرا لعاب جنت کا پانی ہے ) وغیرہ ، مجھے یہ علم ہے کہ وہ مجھے راضی کرنے کے لیے ایسی باتیں کرتا ہے اوراسے حقیقی معنی میں نہیں لیتا ۔

بالآخر وہ ایسی باتیں کرنے سے رک گیا کیونکہ اسے خدشہ ہوا کہ کہیں ایسا کرنا حرام نہ ہو ، میری آپ سے گزارش ہے کہ آپ مجھے ذرا یہ بتائيں کہ ایسی باتیں کرنا حرام تونہیں ؟

الحمد
للہ :

خاوندکے لیے ایسے موھم سے الفاظ سے اجتناب کرنا ضروری ہے ،
کیونکہ دنیا میں کوئي بھی ایسی چيز نہیں جوجنت میں پائي جانے والی اشیاء کے مشابہ
ہویا پھر اس کے قریب بھی ہو ۔

اورپھر خاوند نے جنت کے پانی کا تجربہ تو نہیں کیا اورنہ ہی اس کا ذائقہ ہی چکھا
ہے ، کلام اوربات چيت میں بہت ساری اچھی اورمباح عبارتیں ایسی ہیں جواس جیسی عبارت
سے مستغنی کرنے والی ہیں وہ استعمال کريں ۔

واللہ اعلم .