میں رمضان کے روزے تو رکھتی ہوں لیکن نماز نہيں پڑھتی توکیا میرا روزہ صحیح ہے ؟


الحمد للہ

تارک نماز کے روزے قبول نہیں بلکہ اس کا کوئي عمل بھی قبول نہيں ہوتا کیونکہ نمازترک
کرنا کفر ہے ، اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

( شرک وکفر اوربندے کے مابین حد فاصل نماز ترک کرنا ہے ) صحیح مسلم حدیث نمبر (
82 ) ۔

آپ مزید تفصیل کے لیے سوال نمبر (
5208 ) کے جواب کا مطالعہ
کریں

اوراس لیے کہ بھی کافر کا توکوئی بھی عمل قابل قبول نہیں اس کی دلیل فرمان باری
تعالی ہے :

{ اور انہوں نے جو جو اعمال کیے تھے ہم نے ان کی طرف بڑھ کر انہیں پراگندہ کردیا
} الفرقان ( 23 ) ۔

اورایک دوسرے مقام پر کچھ اس طرح فرمایا :

{ یقینا تیری طرف بھی اورتجھ سے پہلے ( کے تمام نبیوں ) کی طرف بھی وحی کی گئي
ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرے عمل ضا‏ئع ہوجائنگے ، اوریقینا تو نقصان
اٹھانے والوں میں سے ہوجائے گا } الزمر ( 65 ) ۔

امام بخاری رحمہ اللہ تعالی نے اپنی صحیح میں بیان کیا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا :

( جس نے بھی عصر کی نماز ترک کی اس کے اعمال ضا‏ئع ہوگئے ) صحیح بخاری حدیث نمبر
( 553 ) ۔

بطل عملہ کا معنی ہے کہ اس کے اعمال باطل ہوگئے اس کا کوئي فائدہ نہیں ہوگا ۔

یہ حدیث اس پردلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالی تارک نماز کا کوئي عمل بھی قبول نہيں
کرتا ، لھذا تارک نماز کواس کا کوئي بھی عمل فائدہ نہيں دے گا ، اورنہ ہی اس کا عمل
اللہ تعالی کی جانب اٹھایا جاتا ہے ۔

حافظ ابن قیم رحمہ اللہ تعالی اس حدیث کے معنی میں کہتے ہيں :

حدیث سے ظاہرہوتا ہے کہ نماز ترک کرنے کی دو قسمیں ہیں :

کلی طور پر نماز ترک کرنا اوربالکل کبھی بھی نماز نہ پڑھنا ، اس وجہ سے اس کے
سارے اعمال تباہ ہوجاتے ہیں ۔

دوسری قسم یہ ہے کہ کسی معین نماز کو معین دن میں ترک کیا جائے ، اس سے اس دن کے
اعمال ضا‏ئع ہوجاتے ہيں ۔

لھذا عمومی طور پر اعمال کا ضا‏ئع ہونا ترک عام کے مقابلہ میں ہے اورمعین ضیاع
ترک معین کے مقابلہ میں ہے ۔ ا ھـ دیکھیں کتاب الصلاۃ صفحہ ( 65 ) ۔

ہم سوال کرنے والی کونصیحت کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالی کےہاں توبہ کرے اوراپنے
کیے پر نادم ہو کہ اس نے اللہ تعالی کے حق میں کوتاہی کی ہے ، اوراپنے آپ کو اللہ
تعالی کے غضب اورغصہ وسزا کا سزاوار بنایا ہے ۔

اللہ تعالی اپنے بندے کی توبہ قبول فرماتا اوراس کے گناہ معاف کردیتا ہے بلکہ وہ
تو اپنے بندے کی توبہ سے بہت زيادہ خوش ہوتا ہے ، اورپھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے
توبہ کرنے والے کوخوشخبری دی ہے کہ :

( گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسے ہے جیسے اس کا کوئي گناہ نہیں ) سنن ابن ماجہ
حدیث نمبر ( 4250 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح ابن ماجہ ( 3424 ) میں اسے
صحیح قراردیا ہے ۔

لھذا غسل اورنماز کی ادائيگي میں جلدی کریں تا کہ ظاہری اورباطنی دونوں طہارتیں
جمع ہوسکیں ، اورتوبہ کومؤخر نہ کرے کہ وہ کہتی رہے میں کل یا پھر پرسوں توبہ کرلوں
گی ، کیونکہ انسان کو علم نہيں کہ کب اورکہاں اس کی موت آجائے ، لھذا ندامت سے قبل
ہی توبہ کرلیں ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ اوراس دن ظالم شخص اپنے ہاتھوں کو چبا چبا کر کہے گا ہائے کاش کہ میں نے رسول
صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ اختیار کی ہوتی ، ہائے افسوس کاش کہ میں نے فلاں کو دوست
نہ بنایا ہوتا ، اس نے تو مجھے اس کے بعد گمراہ کردیا کہ نصیحت میرے پاس آپہنچی تھی
اورشیطان تو انسان کو وقت پر دغا دینے والا ہے } الفرقان ( 27 – 29 ) ۔

واللہ اعلم .