ایک حاجی نے حرم میں اس کےپاس مصلی رکھا اورکہنے لگا کہ میں طواف کرکے آرہا ہوں ، لھذا ظہر سے عشاء تک اس کا انتظار کیا لیکن وہ نہيں آیا تواس مصلے کا کیا کرنا چاہیے ؟

الحمدللہ

ہم نے یہ سوال فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح
عثيمن رحمہ اللہ تعالی کے سامنے رکھا توان کا جواب تھا :

وہ اسے صدقہ کردے ۔

سوال : ؟

کیا یہ حرم کا لقطہ ( یعنی گمشدہ چيز ) ہے ؟

یہ کسی معین شخص کا ہوتا ہے اوروہ مجھول ہے ، لھذا اسے صدقہ کردیا جائے ، یہ حرم
کے لقطہ کی مثل نہيں ، اس لیے لقطہ کے بارہ میں توعلم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کس کا ہے
۔ واللہ تعالی اعلم ۔ .