کیا دمہ کے مریض کا بطور علاج منہ کے ذریعہ سپرے استعمال کرنا روزے کوفاسد کردیتا ہے ؟
الحمد
للہ :
رمضان المبارک میں روزے کی حالت میں دمہ کی سپرے کا استعمال
روزے کو فاسد نہیں کرتا ۔
دمہ کی سپرے سے روزہ نہیں ٹوٹتا کیونکہ وہ پریشر گیس ہوتی ہے جوپھیپھڑوں میں
جاتی ہے اور وہ کھانا نہيں ، دمہ کا مریض ہروقت رمضان اورغیررمضان دونوں حالتوں میں
اس کا محتاج رہتا ہے ۔
دیکھیں فتاوی الدعوۃ ابن باز عدد نمبر ( 979 ) ، اوراس کے علاوہ ویپ سائٹ پر کتابوں
کی قسم میں رسالۃ ( روزوں کے ستر مسائل ) بھی
دیکھیں ۔
شیخ ابن عثيمین رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :
یہ سپرے بخار بن جاتی ہے اورمعدہ میں نہیں جاتی ، اس لیے ہم یہ کہيں گے : آپ روزے
کی حالت میں اسے استعمال کرسکتے ہيں اس میں کوئي حرج نہيں اس سے روزہ نہيں ٹوٹتا ۔
اھـ
دیکھیں فتاوی ارکان الاسلام صفحہ ( 475 ) ۔
مستقل فتوی کمیٹی ( اللجنۃ الدائمۃ ) کے علماء کرام کا کہنا ہے :
مریض جودمہ کی دوا سونگھ کراستمعال کی جاتی ہے وہ سانس کے ذریعہ پھیپھڑوں تک
جاتی ہے نہ کہ معدہ میں ، لھذا یہ کھانا پینا نہیں اور نہ ہی اس کےحکم میں آتی ہے
۔۔۔ ظاہر یہ ہوتا ہے کہ اس دوا کےاستعمال سے روزہ نہيں ٹوٹتا ۔ دیکھیں فتاوی اسلامیۃ
( 1 / 130 )
واللہ اعلم .
