جب میں اپنے بھائیوں کوایک برائ سے منع کروں لیکن میں خود وہ برائ کرتا رہوں توکیا میں منافق شمارہوں گا ؟

جواب دے کرمستفید فرمائيں اللہ تعالی آپ کوجزاۓ خیرفرماۓ ۔


الحمد للہ

آّپ پر واجب ہے کہ گناہوں اورمعاصی سے توبہ کریں اوراپنے بھائیوں کو بھی اس نصیحت کریں ، اورآّپ کے لیے معاصی پرقا‏ئم رہنا اوراپنے بھائیوں کونصیحت ترک
کردینا جائزنہيں اس لیے کہ یہ دومعصیتوں کوجمع کرنا ہے ۔

تواس سے آّّپ اللہ تعالی کے ہاں توبہ کرنے کے ساتھ اپنے بھائیوں کونصیحت بھی کرتے رہیں ، تواس طرح آپ منافق نہیں ہونگے ، لیکن آّپ ایک فعل کا ارتکاب کررہے
ہیں جس کی اللہ تعالی نے مذمت کی اور اس کے فاعل پرعیب لگاتے ہوۓ کچھ اس طرح فرمایا ہے :

{ اے ایمان والو ! تم وہ بات کیوں کہتے ہوجوخود نہیں کرتے ، تم جو کرتے نہیں اس کا کہنا اللہ تعالی کوسخت ناپسند ہے } الصف ( 2 – 3 ) ۔

اوراللہ تعالی کا ایک اورمقام پرکچھ اس طرح فرمان ہے :

{ کیا لوگوں کوتوبھلائیوں کا حکم دیتے ہو ؟ اورخود اپنے آپ کوبھول جاتے ہو باوجود یکہ تم کتاب پڑھتے ہو کیا تم میں اتنی بھی سمجھ نہیں } ۔
 .