اب عقل داڑھ نلکنا شروع ہوئي ہے جس کی بہت تکلیف محسوس ہوتی ہے توکیا مندرجہ ذیل اشیاء جائزہیں :
1 – روزے کی حالت میں درد کم کرنے والی مرھم لگانا ؟
2 – داڑھ اکھاڑنے کے لیے جراحی عمل کرنا اورروزہ کی حالت میں ہی سن کرنے والی ادویات استعمال کرنا ؟
الحمد للہ
روزے کی حالت میں دانتوں کا علاج اورمسوڑھوں پرمرہم لگانی جائز ہے لیکن ایک شرط ہے
کہ اسے نگلا نہ جائے ۔
کتاب : ( سبعون مسئلۃ فی
الصیام ) روزوں کے ستر مسائل میں ہے کہ :
کچھ ایسی اشیاء بھی ہیں جن سے روزہ نہیں ٹوٹتا ، ان میں سے ہم چند ایک بطور مثال
ذکر کرتے ہيں :
1 – سینہ کے درد کے علاج کے لیے زبان کے نیچے رکھی جانے والی گولیاں وغیرہ جبکہ
اس میں کچھ بھی نگلا نہ جائے ۔
2 – دانت میں سوراخ کرنا ، یا پھر داڑھ نکالنا ، یا دانتوں کی صفائی ، یا مسواک
اوربرش کرنا لیکن ان میں بھی حلق تک جانے والی چيز نگلنے سے اجتناب کرنا ضروری ہے ۔
3 – کلی اورغرارے کرنا ، اورمنہ کے علاج کے لیے سپرے کا استعمال ، لیکن جب حلق
تک جانے والی چيز کے نگلنے سے اجتناب کیا جائے ۔
کتاب سے لیا گيا اقتباس ختم ہوا ۔
اور اسی طرح بے ہوشی کے اثر میں ہوتے ہوئے جراحی عمل کرنا بھی جائز ہے لیکن اگر
بے ہوشی سارے دن پر مشتمل نہ ہو تو پھر ، یعنی طلوع فجر سے لیکر غروب آفتاب تک نہیں
ہونی چاہیے کیونکہ اس کا حکم بھی نیند جیسا ہی ہے ، آپ مزید تفصیل کے لیے سوال نمبر
( 12425 ) کے جواب کا
مطالعہ ضرور کریں ۔ واللہ اعلم .
