میرا خاوند یہ نہیں چاہتا کہ بچے پیدا ہوں ، اورہمیشہ ہی وہ حمل کے ابتدائي مراحل میں مجھ سے مطالبہ کرتا ہے کہ میں حمل ساقط کرادوں ( ماہواری ختم ہونے کے پہلے ہفتہ میں ہی ) تواس میں اسلام کا حکم کیا ہے ؟
خاوند کا کہنا ہے کہ اس کے بارہ میں ساری مسؤلیت اس کی ہے ، جب وہ ایسا کرنے پر حریص ہوتومجھے کیا کرنا چاہیے ، باقی معاملات میں وہ بہت ہی اچھا مسلمان خاوند ہے ؟
آّّپ سے گزارش ہے کہ آپ میری راہنمائی فرمائيں ۔
الحمد
للہ :
مندرجہ ذيل سوال
فضیلۃ الشيخ محمد بن صالح عثيمین رحمہ اللہ تعالی کے سامنے پیش کیا گيا :
کیا شادی کے ابتدائي دوبرس میں خاوند
اوربیوی کی رضامندی سےمنع حمل جائز ہے ، تا کہ خاوند اوربیوی کے مابین ازدواجی
زندگي میں استمرار پر اطمنان ہوسکے ؟
توشیخ رحمہ اللہ تعالی کا مندرجہ ذيل
جواب تھا :
ایسا کرنا حرام نہیں ، لیکن بہتر
اورافضل یہ ہے کہ ایسا نہ کیا جائے بلکہ انہیں نیک شگون اورنیک فال لینی چاہیے
اوراللہ تعالی پر حسن ظن رکھنا چاہیے ۔ انتھی ۔
اوریہ بھی ہوسکتا ہے کہ بچہ کی پیدائش
میں جلدی خاوند اوربیوی کے مابین محبت والفت اورتعلقات میں زيادتی اوررشک و غبطہ
پیدا کرے ، اوروہ بچہ خاوند اوربیوی اوران کے خاندان والوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنے
۔
اللہ سبحانہ وتعالی ہی توفیق بخشنے
والا ہے ۔
واللہ اعلم .
