کیامیں صرف دس محرم کا روزہ رکھ سکتاہوں یعنی اس سے ایک دن قبل یا ایک دن بعد میں روزہ نہ رکھوں ؟

الحمدللہ

شیخ الاسلام رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :

یوم عاشوراء کا روزہ ایک برس کے گناہوں کا کفارہ ہے ، اکیلا دس محرم کا روزہ رکھنا
مکروہ نہيں ۔ دیکھیں الفتاوی الکبری جلد نمبر ( 5 ) ۔

ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

صرف اکیلا عاشوراء کا روزہ رکھنے میں کوئي حرج نہيں ۔ دیکھیں کتاب : تحفۃ
المحتاج باب صوم التطوع جلدنمبر ( 3 ) ۔

یہی سوال لجنۃ الدائمۃ سے کیاگيا تواس کا جواب تھا :

یوم عاشوراء کا اکیلا روزہ رکھنا جائز ہے ، لیکن افضل اوربہتر یہ ہے کہ اس سے دن
قبل یا بعد میں بھی روزہ رکھا جائے ، کیونکہ یہ سنت طریقہ ہے اورنبی صلی اللہ علیہ
وسلم سے ثابت بھی ہے ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( اگر میں اگلے برس تک باقی رہا تو نومحرم
کا روزہ رکھوں گا ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1134 ) ۔

ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کہتے ہیں کہ : دس کے ساتھ نومحرم کا بھی ۔

اللہ تعالی کی توفیق بخشنے والا ہے ۔

دیکھیں : اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ الافتاء ( 11 / 401 ) ۔

واللہ اعلم .