اگر کسی شخص نے قبول اسلام سے قبل کفرکی حالت میں سود پرقرض حاصل کیا توکیا قبول اسلام کے بعد اسے سود کے ساتھ ہی قرض کی ادائيگي کرنا ہوگي ؟
الحمد للہ
ہم نے مندرجہ بالا سوال فضيلۃ الشيخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ تعالی کے سامنے
پیش کیاتو انہوں نے مندرجہ ذیل جواب دیا :
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے حجۃ الوداع کے موقع پرمیدان عرفات
میں خطبہ ارشاد فرماتےہوئے کہا :
جاہلیت کا سود ختم ہے ۔
باوجود اس کےوہ جاھلیت میں اورسود کاحکم ثابت ہونے سے قبل تھا لھذا اگرممکن ہوسکے
توسود ادا نہ کرے ، لیکن اسے دوبار نفع حاصل نہیں کرنا چاہیے ، بلکہ ولی الامر اورحکمران
اس سے وہ سود لے کر صدقہ کردے یا پھر بیت المال میں جمع کرلے ۔
سوال ؟
آپ نے یہ کہا کہ :
دوبار نفع حاصل نہ کرے یہ دوبار کونسی ہیں ؟
جواب :
اول : مثلا اس نے جومال بنک سے حاصل کیا اس سے اس کا نفع حاصل کرنا ۔
دوم : زيادہ مال ، جب ہم یہ کہیں کہ وہ پہلے کونہ زيادہ نہ دے اس کا معنی ہوا کہ
اسے نفع ہوا ۔۔ یعنی وہ سود خور کوزيادہ ادا نہ کرے ۔
مثلا اگر کسی نے ایک لاکھ سود پر ایک ملین حاصل کیا ہو ، توکیا ہم اسے یہ کہيں
گے کہ ایک ملین ادا کرد ، اورایک لاکھ تمہارے ؟
نہيں ہم یہ نہيں کہیں گے ، بلکہ ہم کہیں گے سود خور کوایک ملین ادا کرو لاکھ ادا
نہ کرو لیکن تم نفع حاصل نہ کرو کہ ایک لاکھ تمہارے ہوجائيں ، بلکہ یہ ایک لاکھ بیت
المال میں جمع ہونگے یا پھر صدقہ کردیا جائے گا ۔ .
