میں نے سنا ہے کہ رمضان کی راتوں میں جماع کرنا جائز ہے ، مجھے ایک مشکل ہے ، تقریبا تین برس سے میرا ایک بوائے فرینڈ ہے ہمارے مابین بوس وکنارہوتا رہتا ہے لیکن جماع سے اجتناب کرتےہيں کیونکہ ایسا کرنا بہت سخت حرام ہے ، میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ جو کچھ میں کررہی ہوں آیا وہ حرام ہے اوراس کی سزا کیا ہے ؟

الحمدللہ

اس میں کوئي شک نہيں کہ مرد کا کسی لڑکی کوگرل
فرینڈ اورلڑکی کا کسی لڑکے کو اپنا بوائے فرینڈ بنانا کبیرہ گناہ ہے ، اوراسی طرح
خاوند اوربیوی یا مالک اورلونڈی کے علاوہ کسی اورکا جماع اورمباشرت کرنا حلال نہيں
بلکہ کبیرہ گناہ ہے ۔

آپ کے لیے بوائے فرینڈ بنانا حرام ہے ، اورآپ دونوں کا ایک دوسرے سے مصافحہ
اورخلوت کرنا بھی حرام ہے چہ جائیکہ بوس وکنار اورمعانقہ اور مباشرت کرنا ، یہ سب
کچھ اعضاء کے زنامیں شامل ہوتا ہے ، جوکہ رمضان کے علاوہ عام دنوں میں بھی حرام ہے
، اوررمضان المبارک میں تواس کی حرمت شدت اختیار کرجاتی ہے چاہے رات میں ہو یا دن
میں ۔

اورپھر اللہ تعالی کا فرمان ہے :

{ تمہارے لیے رمضان کی رات کو اپنی عورتوں سے جماع کرنا حلال ہے }

اس آیت میں خاوندوں کو خطاب کیا گیا ہے ۔

تواس بنا پراس عاشق کوچاہیے کہ وہ اپنےکیے کی اللہ تعالی سے معافی مانگے ، اورآپ
بھی اس گناہ سے توبہ کریں ، اوراس توبہ کے بعد آپ دونوں کی شادی حلال ہے ۔

اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ :

( دومحبت کرنے والوں کے لیے نکاح کی طرح کی کوئي چيز نہیں دیکھی جاسکتی ) علامہ
البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح سنن ابن ماجہ میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

ہم آپ سے گزارش کرتےہیں کہ آپ مزید تفصیل کے لیے مندرجہ ذیل سوالوں کے جوابات کا
مطالعہ ضرور کریں :

( 23349 ) اور (
1114 ) اور (
11195 ) اور (
9465 ) ۔

واللہ اعلم .