سوال: ۔ میرے والد نے کئی سال سے سستی اور مصروفیات کیوجہ سے زکاۃ نہیں دی، حالانکہ میرے والد بہت زیادہ صدقہ خیرات کرتے ہیں، ہم نے انہیں بہت کہا، وہ انکار کردیتے تھے، اور آوازیں اونچی ہوتے ہوتے یہاں تک نوبت پہنچ جاتی کہ وہ چیخ اٹھتے: میں ادا کردونگا، میں ادا کردونگا! اب انکی عمر 81 سال ہے، اور انہیں نسیان کا عارضہ بھی لاحق ہے، اکثر صحت خراب رہتی ہے، انہیں بڑھاپے کی وجہ سے ایک اعصابی بیماری بھی ہے جسکی وجہ سے اعضا کپکپاتے رہتے ہیں، انکی زندگی میں پیسہ سب سے اہم ہے، انہوں نے میرے لئے مختار نامہ لکھ دیا ہے، اور اسکے لئے شرط یہ لگائی ہے کہ میں انکی اجازت کے بغیر کچھ نہیں کرونگی۔

اب میرے درج ذیل سوالا ت ہیں:

کیا میں اپنے والد کی لا علمی میں انکی طرف سے زکاۃ ادا کرسکتی ہوں؟ اور انہیں اس بات کا علم ہوگیا تو کیا میں نافرمان بھی ٹھہروں گی؟ اور کیا مجھے انہیں دھمکانے کیلئے چھوڑ کر دور جانے کی اجازت ہے؟ تا کہ وہ میری اس دھمکی کی وجہ سے زکاۃ ادا کردیں، جیسے کہ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد کیساتھ کیا تھا، اور میں یہ محسوس کرتی ہوں کہ زکاۃ کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ہماری زندگی بے برکتی ہوگئی ہے، لیکن میں اکیلی ہوں!

الحمد للہ:

اول:

اگرچہ زکاۃ فقراء کیساتھ ہمدردی اور تعاون ہے لیکن اس سے پہلے یہ ایک عبادت ہے جس
کے ذریعے انسان اللہ کا قرب حاصل کرتا ہے، اور عبادت نیت کے بغیر قبول ہی نہیں ہوسکتی،
کیونکہ فرمانِ رسالت ہے: (بلاشبہ اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو
وہی ملے گا جسکی وہ نیت کریگا) اس لئے  کوئی مالدار کی طرف سے ذمہ داری دئے جانے
اور اجازت کے بغیر ہی اد اکردے تو زکاۃ کی ادائیگی درست نہیں ہوگی۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ  کہتے ہیں:
"بلاشبہ اگرچہ زکاۃ مالی حق ہے، لیکن یہ اللہ کیلئے مسلمانوں پر واجب ہے۔۔۔ اسی لئے
اس کی ادائیگی کیلئے نیت کا ہونا ضروری ہے، چنانچہ کوئی شخص صاحب زکاۃ کی اجازت کے
بغیر ادا  کر دے تو کفایت نہیں کریگی”انتہی
” مجموع الفتاوى ” (7/315)

یہ تمام بات اس بارے میں ہے کہ صاحبِ زکاۃ سے [نیت کے بغیر ]زکاۃ کی ادائیگی کفایت
کریگی یا نہیں [یعنی زکاۃ کا فریضہ ادا ہوگا یا نہیں؟]۔

جبکہ زکاۃ نکالنے کے بارے میں یہ ہے کہ: صاحب زکاۃ کے مال سے زکاۃ نکالی جائے گی،
چاہے اس کی لاعلمی میں نکالی جائے، کیونکہ زکاۃ اس کے ذمہ فقراء اور مساکین وغیرہ
کا حق ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جو شخص زکاۃ ادا نہ کرے تو حکمران اس سے زبردستی  لے سکتا ہے، اسی لئے
ابو بکر رضی اللہ عنہ نے زکاۃ ادا نہ کرنے والوں سے قتال بھی کیا۔

علمائے کرام زبردستی زکاۃ لینے کے بارےمیں مختلف آراء رکھتے ہیں، کہ صاحبِ زکاۃ  سے
زبردستی لی گئی زکاۃ اسے بری الذمہ بنا دے گی؟ یانہیں؟ اگرچہ سب اس بات پر متفق ہیں
کہ زکاۃ اس سے زبردستی لے لی جائے گی۔

اس بنا پر ؛ آپ اپنے باپ کے مال سے زکاۃ ادا کروگی، چاہے وہ اپنی ناراضگی کا اظہار
کرے۔

اور آپ کیلئے ضروری ہے کہ انہیں مسلسل رِفق و نرمی کیساتھ اور اچھے انداز سے نصیحت،
اور وعظ کرتی رہو، عین ممکن ہے کہ اللہ تعالی انہیں سیدھے راستے کی ہدایت دےدے۔

مزید تفصیلات کیلئے آپ سوال نمبر: (130572) اور (82655)
کا مطالعہ کریں۔

دوم:

گناہگاروں،
اور نافرمانوں سے قطع تعلقی ان مسائل میں سے ہے جن کے بارےمیں اصل اہداف کے پانے کیلئے
دور اندیشی سے کام لیا جاتا ہے، چنانچہ اگر آپ کی قطع تعلقی کے باعث وہ گناہوں سے
رک جائے گا، اور  سیدھے راستے پر چلتے ہوئے اللہ اور فقراء کا حق ادا کرنے لگ جائے
گا تو آپ اس صورت میں ان سے قطع تعلقی کرسکتی ہو۔

اور اگر آپکا قطع تعلقی کرنا کوئی اہمیت کا حامل نہیں ہے، بلکہ ہوسکتا ہے وہ  اپنی
بات پر اڑ جائے، اور عناد  پر اتر آئے ، جسکی وجہ سے آپکے درمیان فاصلہ پیدا ہوگا
تو آپکے لئے  ان کیساتھ قطع تعلقی کرنا شرعی عمل نہیں ہوگا۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ  کہتے ہیں:
"گناہ گار لوگوں سے قطع تعلقی کے بارے میں یہ ہے کہ اگر آپ کی اس سے قطع تعلقی گناہگار 
کو گناہوں کے ترک کرنے پر آمادہ کرسکتی ہے تو اس سے قطع تعلقی کرنی چاہئے ، اور اگر
قطع تعلقی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا تو اس سے قطع تعلقی کرنا حرام ہے، کیونکہ اگرچہ
وہ گناہگار ہے لیکن ہے مسلمان، چاہے اس سے کبیرہ گناہ ہی کیوں نہ سرزد ہوجائے”انتہی


لقاءات الباب المفتوح ” ( 231/ السؤال رقم 9 )

مزید تفصیل  کیلئے سوال نمبر: (93146) ، (148033)
اور  (89601) کا مطالعہ کریں۔

واللہ اعلم.