براہ کرم عطیہ دے کر ہمارے کام کو برقرار رکھنے اور ترقی دینے میں مدد کریں۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔
جب عورت نفاس میں چالیس یوم سے قبل ہی پاک صاف ہوجائے توکیا اس کا حج صحیح ہوگا ؟
اوراگراس نے حج کی نیت کررکھی ہواوراس کا نفاس ختم نہیں ہوتا تواسے کیا کرنا چاہیے ؟
الحمد
للہ :
شیخ محمد بن
عثيمین رحمہ اللہ تعالی کہتےہیں :
جب نفاس والی عورت چالیس یوم سے قبل
ہی پاک صاف ہوجائے تووہ طاہرعورت کی طرح نمازادا کرے گي اورروزہ بھی رکھے گی حتی کہ
طواف بھی کرے گي کیونکہ نفاس کی کم ازکم مدت کی کوئي حد نہيں ہے ۔
لیکن اگراسے طہرشروع نہيں ہوتا اوروہ
پاک صاف نہيں ہوتی تواس کا حج بھی صحیح ہے لیکن وہ پاک صاف ہونے سے قبل بیت اللہ کا
طواف نہیں کرے گي ، کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حائضہ عورت کوبیت اللہ
کا طواف کرنے سے منع کردیا ہے ، اورنفاس بھی اس مسئلہ میں حیض کی طرح ہی ہے ۔اھـ
.
