ایک شخص نے شادی کی تواس کے سسرال والوں نے یہ شرط رکھی کہ جس عورت سے بھی وہ شادی کرے گا اسے طلاق ہوگی ، پھر خاوند نے دوسری شادی کرلی اب مذاھب اربعہ میں اس کا حکم کیا ہے ؟
الحمد للہ
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی سے مندرجہ بالا سوال کیا گیا تو ان کا جواب
تھا :
امام شافعی کے ہاں یہ شرط لازم نہیں ، اورامام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالی نے اسے
لازم قرار دیا ہے کہ جب بھی خاوند شادی کرے کا طلاق واقع ہوجائے گی ، اورجب بھی وہ
کوئي لونڈی حاصل کرے گا وہ بھی آزاد ہوگی ، اورامام مالک رحمہ اللہ تعالی کا مسلک
بھی یہی ہے ۔
لیکن امام احمد رحمہ اللہ تعالی کے مسلک میں یہ طلاق واقع نہیں ہوگی اورنہ ہی
لونڈی آزاد ہوگی ، لیکن جب وہ شادی کرلے یا پھر لونڈی رکھے تو پہلی بیوی کو اختیار
ہے چاہے وہ اس کے ساتھ رہے یا اپنے خاوند سے علیحدگي اختیار کرلے ۔
کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
( وہ شرطیں سب سے زیادہ پورا کرنے کی حقدار ہیں جن سے تم شرمگاہ حلال کرتے ہو )
۔
اور اس لیے کہ ایک مردنے عورت سے شادی اس شرط کی بنا پر کی کہ اس کی موجودگی میں
دوسری شادی نہيں کرے گا ، تویہ معاملہ عمر رضي اللہ تعالی عنہ تک لے جایا گيا تو انہوں
نے فرمایا :
( شروط سے حقوق ختم ہوجاتے ہیں ) ۔
تو اس طرح اس مسئلہ میں تین اقوال ہوئے :
پہلا قول : اس سے طلاق ہوجائے گی ۔
دوسرا قول : اس سے طلاق نہيں ہوگی ، اوربیوی کو علیحدگي کا حق حاصل نہيں ہوگا ۔
تیسرا قول : یہ قول سب سے زيادہ بہتر ہے ، اس سے نہ تو طلاق ہوگي اور نہ ہی
لونڈی آزاد ہوگی ، لیکن بیوی نے جو شرط رکھی ہے اسے اس کا حق حاصل ہے اگر تو وہ
چاہے توخاوند کے ساتھ رہے اوراگر چاہے تو اس سے علیحدگی اختیار کرسکتی ہے ۔ یہ سب
اقوال سے اوسط ہے ۔ .
