کیا مرد پر کے لیے بھی عقد نکاح میں ولی کا ہونا واجب ہے ، اگر جواب اثبات میں ہو تو کیا مرد کا کوئي بھی قریبی شخص اس کا ولی بن سکتا ہے ؟

الحمدللہ

مرد کےلیے عقد نکاح کے وقت ولی کا ہونا واجب
نہيں ، بلکہ مرد تو خود اپنے نکاح کا ذمہ دار ہے ، لیکن عورت عقد نکاح میں ولی کی
محتاج ہے اوراس کا نکاح ولی کے بغیر نہیں ہوتا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا ہے :

عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
( جوعورت بھی ولی کے بغیر نکاح کرے تواس کا نکاح باطل ہے باطل ہے باطل ہے ) سنن
ترمذی حدیث نمبر ( 1102 ) سنن ابوداود حدیث نمبر ( 2083 ) امام ابوداود رحمہ اللہ
تعالی نے اسے حسن قرار دیا ہے ، سنن ابن ماجہ حدیث نمبر ( 1879 ) ۔

لیکن اگر مرد مجنون یا بے عقل اورکم عقل ہو تو اس پر ولی ہوگا ، لیکن جب وہ عقل
مند اورسمجھدار ہو تو اس پر کوئي ولی نہيں ہوگا ۔ .