براہ کرم عطیہ دے کر ہمارے کام کو برقرار رکھنے اور ترقی دینے میں مدد کریں۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔
اس حدیث ( ادبنی ربی فاحسن تادیبی ) میرے رب نے مجھے ادب سکھایا اور اچھا ادب سکھایا ہے ) کا درجہ کیا ہے ؟
الحمد للہ
یہ حدیث ضعیف ہے ۔
ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں کہ : اس حديث کی سند ثابت نہیں ۔ دیکھیں ”
احادیث القصاص ( 78 )
اور امام شوکانی رحمہ اللہ تعالی نے اسے ” الفوائد المجموعۃ ” ( 1020 ) میں نقل
کیا ہے ۔
اور الفتنی نے ” تذکرۃ الموضوعات ” ( 87 ) میں ذکرکیا ہے ۔
لیکن اس حدیث کا معنی صحیح ہے ۔
واللہ تعالی اعلم .
