سوال: جبری شادی کا شریعت میں کیا حکم ہے؟ اور کیا واقعی یہ باطل نکاح ہے؟ اور اگر ایسے ہی ہے تو پھر ایسی شادی کی نتیجے میں پیدا ہونے والے بچوں کا کیا حکم ہو گا جو کہ طلاق کے بعد پیدا ہوں؟ کیا ایسا ممکن ہے کہ بچے کو غیر شرعی کہا جائے اس اعتبار سے کہ نکاح ہی بنیادی طور پر فاسد تھا۔

واضح رہے کہ یہ گفتگو ایسی شادی کے بارے میں ہے جس میں والد بچی پر زور دے کر اس کی شادی کروائے، یا پھر یہ ممکن ہے کہ ایسے بچے کو شادی کے بغیر پیدا شدہ کہا جائے؟ میں نے ایک اسلامی ویب سائٹ پر پڑھا تھا کہ ایسا بچہ جو کہ شادی کے نتیجے میں پیدا نہ ہو تو اسے اس کے باپ سے منسوب نہیں کیا جاتا، تو کیا یہ بات صحیح ہے؟ اور اگر وہ باپ بچے کی ماں کا رشتہ دار بھی ہو تو پھر کیا حکم ہو گا؟ اگر یہ حکم صحیح ہے تو پھر کیا یہ ایسے بچے پر بھی لاگو ہوتا ہے جو کہ رضا مندی کے بغیر ہونے والی شادی کے نتیجے میں پیدا ہوا ہو؟ مجھے امید ہے کہ آپ کتاب و سنت سے دلائل دیں گے۔

الحمد للہ:

اول:

لڑکی کو ایسے شخص سے شادی پر مجبور نہیں کیا جا سکتا جس سے لڑکی شادی نہ کرنا چاہتی
ہو، اور فقہائے کرام کے راجح موقف کے مطابق چاہے وہ لڑکی کنواری ہی کیوں نہ ، یہی
موقف ہے احناف کا ہے؛ اس کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے: (کنواری
لڑکی کی شادی اس وقت تک نہ کی جائے جب تک اس سے اجازت نہ لے لی جائے) بخاری: (6968)
، مسلم: (1419)

اور اگر لڑکی کی اجازت کے بغیر شادی کر دی جائے تو پھر نکاح  لڑکی کی اجازت پر معلق
ہو گا، چنانچہ اگر لڑکی راضی ہو جائے تو نکاح صحیح ہو جائے گا اور  دوبارہ عقد نکاح
کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی، اور اگر لڑکی اجازت نہ دے تو پھر یہ نکاح فاسد ہو گا۔

بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس
ایک لڑکی آئی اور کہا: "میرے والد نے میری شادی اپنے بھتیجے سے کر دی ہے تا کہ اس (بھتیجے)کی
خامیوں پر پردہ پڑ جائے ” تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح باقی رکھنے یا ختم
کرنے کا اختیار لڑکی کے ہاتھ میں دے دیا، اس پر اس لڑکی نے کہا: "میرے ساتھ میرے
والد نے جو کچھ کیا ہے میں اس پر راضی ہوں، لیکن میرا مقصد یہ تھا کہ عورتوں کو
معلوم ہو جائے کہ والد [تنہا] لڑکیوں کی شادی کا فیصلہ نہیں کر سکتے”
ابن ماجہ:  (1874) نیز علامہ بوصیری نے سے "مصباح الزجاجة” (2/102) میں صحیح کہا ہے،
اسی طرح شیخ مقبل الوادعی اس حدیث کے بارے میں کہتے ہیں کہ: "یہ حدیث امام مسلم کی
شرائط کے مطابق صحیح ہے”  ماخوذ از: "الصحیح المسند” صفحہ: 160

دائمی فتوی کمیٹی سے استفسار کیا گیا:
ایسی لڑکی کے بارے میں اسلام کیا حکم دیتا ہے جس کی شادی جبری کی گئی ہو؟
تو انہوں نے جواب دیا:
"اگر لڑکی اپنے خاوند کو پسند نہ کرتی ہو تو اس کا معاملہ عدالت میں اٹھایا جائے گا،
تا کہ عقد بحال رکھا جائے یا فسخ کر دیا جائے” انتہی
” فتاوى اللجنة الدائمة ” (18/126)

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اگر ہم یہ کہیں کہ: نکاح صحیح نہیں ہے، تو پھر فسخ کرنا ضروری ہو گا؛ کیونکہ یہ
نکاح صحیح نہیں ہے، لیکن اگر فرض کریں کہ لڑکی کو جب اس کے خاوند کے ساتھ  بھیجا
گیا اور لڑکی کو خاوند پسند آیا  اور اس نے عقدِ نکاح جاری رہنے کی اجازت دے دی تو
پھر اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اس طرح لڑکی کی اجازت سے نکاح درست ہو جائے گا” انتہی
” اللقاء الشهري” (1/343(

دوم:

اگر لڑکی عقدِ نکاح جاری رہنے کی اجازت نہ دے ، تو پھر راجح موقف کے مطابق نکاح
فاسد ہو گا، لیکن احناف کے سوا دیگر فقہا ءاسے درست کہتے ہیں، لہذا ایسی لڑکی کا
نکاح مختلف فیہ رہے گا، جس پر درج ذیل امور مرتب ہو تے ہیں:

1-            

لڑکی اس وقت تک نکاح سے خارج نہیں ہو گی جب تک طلاق نہ ہو یا قاضی نکاح فسخ نہ کر
دے۔

چنانچہ ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: "اگر عورت کی شادی نکاحِ فاسد سے ہو تو اس کی
شادی کسی اور سے کرنا  جائز نہیں ہے، یہاں تک کہ اسے طلاق ہو جائے یا نکاح فسخ کر
دیا جائے، اگر خاوند طلاق دینے پر راضی نہ ہو تو حاکم اس کا نکاح فسخ کر دے گا،
امام احمد نے اس بات کی صراحت کی ہے” انتہی
"المغنی” (7/342)

شیخ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"علمائے کرام کا صحیح ترین موقف یہ ہے کہ نکاح فاسد ہے، تاہم اس کیلیے آگے شادی
کرنا اسی وقت جائز ہو گا جب اسے طلاق ہو جائے گی، یا شرعی قاضی کی جانب سے اس کا
نکاح فسخ کر دیا جائے گا؛ تا کہ جن اہل علم کے ہاں یہ نکاح صحیح ہے ان کی مخالفت سے
بچا جائے” انتہی
” مجموع فتاوى ابن باز” (20/411)

2-            

عقدِ نکاح اختلافی ہونے کی وجہ سے مشتبہ ہو گیا چنانچہ ایسی شادی میں جماع کو زنا
شمار نہیں کیا جائے گا۔

چنانچہ ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"نکاحِ فاسد میں کوئی حد نہیں لگائی جائے گی چاہے وہ نکاح فاسد کو جائز سمجھتا ہو
یا حرام جانتا ہو۔۔۔لیکن باطل نکاح  مثال کے طور شادی شدہ عورت کی آگے شادی کرنا،
یا عدت کے دوران شادی کرنا، یا نکاحِ شبہ میں فریقین کو حلال و حرام کا علم ہو تو
وہ دونوں زانی شمار ہوں گے اور انہیں حد بھی لگائی جائے گی، نیز بچوں کا نسب بھی
والد کی طرف منسوب نہیں ہو گا” انتہی
المغنی (7/344)

3-            

ایسی شادی کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ  شرعی اولاد شمار ہو گا اور اس کی نسبت
بھی خاوند کی طرف کی جائے گی۔

یہ اصول ایسے تمام فاسد نکاحوں میں برتا جائے گا جس میں اختلاف ہو۔

چنانچہ "الموسوعة الفقهية” (8/ 123) میں ہے کہ:
"تمام فقہائے کرام کا ایسے نکاحوں کے بارے میں اتفاق ہے جن کے صحیح ہونے میں علما
اختلاف رکھتے ہیں کہ ان میں جماع کے بعد [طلاق کی صورت میں]عدت واجب ہو گی،  اور
اولاد کی نسبت باپ کی طرف کی جائے گی ، مثال کے طور پر: گواہوں کے بغیر نکاح کرنا،
یا ولی کے بغیر نکاح کرنا ، حج کے احرام کی حالت میں شادی کرنا، اور وٹہ سٹہ کی
شادی۔۔۔
نیز اہل علم کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ جن نکاحوں کے فاسد ہونے پر سب کا متفقہ
فیصلہ ہے ان میں جماع کے بعد [طلاق کی صورت میں] عدت واجب ہو گی ، متفقہ طور پر
فاسد نکاح کی مثالیں یہ ہیں: عدت میں لڑکی سے شادی کرنا، کسی کی بیوی سے نکاح کرنا،
محرم سے شادی کرنا ، بشرطیکہ کوئی ایسی وجہ موجود ہو جس سے حد ساقط ہو جائے، ان
وجوہات کی مثالوں میں شرط یہ  ہے کہ: شادی کرنے والے کو حرمت کا علم نہ ہو؛ اور
ویسے بھی فقہائے کرام کے ہاں اصول یہ ہے کہ: ہر ایسا نکاح جس میں حد ساقط ہو جائے
تو اس نکاح کے نتیجے میں پیدا ہونے  بچے کو اسی مرد سے منسوب کیا جائے گا۔

لیکن اگر حد ساقط کرنے کا باعث بننے والی کوئی وجہ نہ ہو ، مثلاً: اسے اس نکاح کی
حرمت کا علم تھا تو پھر ایسی صورت میں جمہور کے ہاں بچے کو اس مرد کی طرف منسوب
نہیں کیا جائے گا، یہی موقف بعض حنفی مشایخ کا بھی ہے؛ کیونکہ جہاں حد واجب ہوتی ہو
وہاں نسب ثابت  نہیں ہو سکتا” انتہی

سوم:

زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ جمہور فقہائے کرام کے ہاں زانی کی طرف منسوب
نہیں ہو گا، اور کچھ فقہائے کرام کا کہنا ہے کہ اگر زانی زنا کی نتیجے میں پیدا
ہونے والے بچے کا نسب اپنی طرف منسوب کرے تو اسے اس کی طرف منسوب کر دیا جائے گا،
پہلے سوال نمبر: (230367) کے جواب میں تفصیلی گفتگو گزر
چکی  ہے۔

واللہ اعلم.