کیاجس نےایام بیض اورشوال کےچھ روزے ایک نیت کےساتھ رکھےاسےوہ فضیلت حاصل ہوگی ؟

الحمد
للہ :

میں نےیہ مسئلہ
اپنےاستاداورشیخ عبدالعزیزبن عبداللہ بن بازرحمہ اللہ تعالی سے پوچھاتوان کاجواب
تھا :

اسی کی امیدہےکہ اسےیہ اجرملےگا
کیونکہ اس نےچھ روزےاوراسی طرح کہاجاسکتا ہےکہااس نےایام بیض کےروزے بھی رکھےہیں
اوراللہ تعالی کافضل بہت وسیع ہے ۔

اوراسی مسئلہ کےمتعلق میں نےفضیلتہ
الشیخ محمدبن صالح عثیمین رحمہ اللہ تعالی سے پوچھاتوانہوں نےمندرجہ ذیل جواب دیا :

ہاں ، جب اس نےشوال کےچھ روزے رکھےتوایام
بیض کےروزے اس سےساقط ہوگئے چاہےاس نےیہ روزےایام بیض کےوقت یااس سے پہلےیابعدمیں
رکھےسب برابرہیں کیونکہ یہ اس پرصادق آتاہےکہ اس نےمہینہ میں تین روزے رکھے ۔

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاکابیان
ہےکہ :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہرمہینہ میں
تین روزے رکھتےتھےانہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں تھی کہ وہ مہینہ کےشروع میں رکھیں
یاکہ وسط یاآخرمیں ۔

اوراسی طرح ہےجس طرح کہ سنن راتبہ
سےتحیۃ المسجدساقط ہوجائےتواگرکوئی مسجدمیں داخل ہواوراس نےسنت راتبہ پڑھیں تواس
سےتحیۃ المسجدساقط ہوجائےگی
 .