براہ کرم عطیہ دے کر ہمارے کام کو برقرار رکھنے اور ترقی دینے میں مدد کریں۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔
کچھ بہنوں کا سوال ہے کہ :
ہم نے یہ حدیث توسنی ہے کہ آدمی جب اپنی بیوی کوہم بستری کی دعوت دے اوربیوی نہ جائے توفرشتے اس پر صبح تک لعنت کرتے ہيں ۔
توسوال یہ ہے کہ :
اگربیوی اپنے خاوند کوہم بستری کی دعوت دے اورخاوند نہ کرے توپھرکیا ہے ؟
الحمدللہ
کسی بھی مرد کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنی
بیوی کوتکلیف اورنقصان دینے کے لیے اس سے ہم بستری ترک کرے ، لیکن جب بیوی کی
نافرمانی اوربددماغی ظاہر ہوتو پھر چھوڑنے میں کوئي حرج نہیں ۔
لیکن جب خاوند اپنی بیوی سے ہم بستری نہ کرے جس میں اس کا مقصد اسے تکلیف دینا
نہ ہوتوپھر اس میں اس پر کوئي گناہ نہيں ، اس لیے کہ ضرورت اسے ہے اوراس کی شہوت پر
منحصر ہے اوروہ شہوت کوابھارنے کا مالک نہيں ، اوراگروہ اسے چھوڑتا ہے تواس سے وہ
بھی گنہگار ہوگا ۔
اس لیے کہ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :
( نہ توخود نقصان اٹھاؤ اورنہ ہی کسی دوسرے کونقصان دو ) ۔
واللہ تعالی اعلم ۔ .
