میں نکاح خوان ہوں ، کچھ اہل علم سے یہ سنا ہے کہ خاوند اوربیوی میں سے کوئی بے نماز ہو توان کا عقد نکاح باطل ہے اوران کا نکاح کرنا صحیح نہیں ، کیا یہ صحیح ہے ؟

جب مجھ سے ایسا نکاح کرنے کا مطالبہ کیا جائے تو مجھے کیا کرنا چاہیے اس کے بارہ میں فتوی سے نوازيں اللہ تعالی آپ کو اجر عطا فرمائے ؟


الحمد للہ

جب آپ کے علم میں یہ ہوکہ دونوں میں سے کوئي ایک بے نماز ہے توآپ یہ نکاح نہ پڑھائيں
، اس لیے نماز ترک کرنا کفر ہے جس کی دلیل مندرجہ ذیل حدیث ہے :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( بندے اورشرک و کفر کے مابین ( حد فاصل ) نماز ترک کرنا ہے ) صحیح مسلم ۔

اورایک دوسری حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کچھ اس طرح ہے :

( ہمارے اوران ( کافروں ) کے مابین نماز کا معاھدہ ہے جس نے بھی نماز ترک کی اس
نے کفر کا ارتکاب کیا ) مسند احمد ، اورسنن اربعہ میں صحیح سند سے مروی ہے ۔

ہم اللہ سبحانہ وتعالی سے دعا گو ہیں کہ مسلمانوں کے حالات کی اصلاح فرمائے ،
اور ان میں سے گمراہ لوگوں کو ھدایت نصیب فرمائے یقینا اللہ تعالی سننے والا
اورقریب ہے ۔ .