کیاشادی کی غرض سے مسلمان کئی ایک عورتوں کو دیکھ سکتا ہے ، یا کہ اس پر ضروی ہے کہ وہ ایک لڑکی دیکھے اگر اسے اس سے شادی کی رغبت نہ ہوتو دوسری دیکھے ؟
الحمدللہ
لڑکے کے لیے منگیترلڑکی کو دیکھنا اس لیے
جائزکیا گيا ہے تا کہ اسے سکون اوراطمنان حاصل ہو اورسنت پر عمل ہوسکے ، جیسا کہ
مغیرہ رضي اللہ تعالی عنہ اوردوسری احادیث میں ملتا ہے ۔
منگیتر کو دیکھنے کے لیے چار شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے :
پہلی شرط : نکاح کا عزم ۔ دوسری : عدم خلوت
تیسری : فتنے کا ڈر نہ ہو چوتھی : مشروع مقدار سے زیادہ نہ دیکھا جائے ۔ مشروع
مقدار یہ ہے کہ جولڑکی عام طور پر ظاہر رکھتی ہے یعنی اپنے بھائی والد وغیرہ کے
سامنے ننگا رکھے ۔
آپ اس کی تفصیل دیکھنے کے لیے سوال نمبر (
2572 ) کے جواب کا مطالعہ
کریں ۔
تواس بنا پر لڑکی اس وقت ہی دیکھی جائے گی جب اس سے نکاح کرنے کا پختہ عزم
اورارادہ ہو ، اگر تو اسے دیکھنے کے بعد وہ راضی ہو تو ٹھیک وگرنہ وہ کسی اور کی
طرف منتقل ہوجائے ۔ .
