جب کوئي شخص یہ اعلان کرے کہ وہ کسی دوسرے شخص کے لیے اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا ہے ، توکیا طلاق واقع ہوگی ؟

اس نے طلاق کےالفاظ نہيں بولے لیکن یہ کہا ہے کہ وہ عنقریب طلاق دے دے گا ، اس نےنیت تو کی لیکن کیا نہیں ، توکیا ان کا آپس میں شادی کا بندھن موجود ہے ؟

الحمدللہ

یہ طلاق نہيں ہوگی ، جب خاوند نے طلاق کے
الفاظ کی ادائيگي کی ہی نہیں توطلاق کے وقوع میں صرف اکیلی نیت ہی کافی نہیں ۔

جمہور علماء کا قول تو یہی ہے جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی نے فتح
الباری ( 9 / 394 ) میں اور ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالی نے المغنی ( 7 / 121 ) میں
عام اہل علم سے نقل کیا ہے ، اوراس میں امام بخاری اورامام مسلم رحمہ اللہ تعالی کی
مندرجہ ذيل حدیث سے استدلال کیا ہے :

ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا :

( اللہ تعالی نے میری امت کے دلوں میں پیدا ہونے والی اشیاء کومعاف کردیا ہے جب
تک وہ اس پر عمل نہ کرلیں یا پھرزبان پر نہ لائيں ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 2528 )
صحیح مسلم حدیث نمبر ( 327 ) ۔

قتادہ رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے : ( جوکہ حدیث کے ایک راوی ہيں ) جب وہ اپنے
دل میں ہی طلاق دے تو وہ کچھ بھی نہيں ( یعنی واقع نہیں ہوگی )

اورشیخ ابن باز رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

صرف نیت سے طلاق نہیں ہوتی بلکہ الفاظ یا پھر لکھنے سے واقع ہوتی ہے ، اوراوپر
بیان کی گئي حدیث سے ہی استدلال کیا ہے ۔

دیکھیں فتاوی اسلامیہ ( 3 / 279 ) ۔

واللہ اعلم .