كيا ميرے ليے طواف افاضہ ميں تاخير كرنا جائز ہے کہ میں آخر میں ایک طواف ہی افاضہ اوروداع کا طواف کرکے مکہ سے روانہ ہوجاؤں ؟

الحمد
للہ :

جی ہاں آپ کے لیے طواف افاضہ میں تاخیرکرنی جائز ہے ، پھرآپ
ایک ہی طواف کریں جوآپ کے طواف افاضہ اوروداع سے کفائت کرے ، لیکن اولی اوربہتر یہی
ہے ہ آپ افاضہ اوروداع دو طواف کریں ۔

اوراس سے بھی بہتر اورکامل یہ ہے کہ آپ عید کے روز جمرہ عقبہ کورمی اورقربانی
کرکے سرمنڈوانے کے بعد ہی طواف افاضہ کرلیں ، پھرجب آپ مکہ سے روانہ ہونا چاہیں
توطواف وداع کرلیں ، اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ بھی یہی تھا اورآپ
ایسا ہی کیا کرتے تھے ۔

اس مسئلہ کے بارہ میں شیخ ابن باز رحمہ اللہ تعالی سے سوال کیا گیا توان کا جواب
تھا :

اس میں کوئي حرج نہيں ہے ، اگرکوئي انسان طواف افاضہ مؤخر کرلے اورجب وہ سفرکرنا
چاہے تورمی جمرات اورباقی اعمال حج سے فارغ ہوجائے تواس کا طواف افاضہ ہی طواف وداع
سے کفائت کرجائے گا ، اوراگروہ – طواف افاضہ اورطواف وداع – دونوں ہی کرے تویہ اس
کے لیے بہتر اوراچھا ہے ، لیکن جب وہ ایک پرہی کفايت کرنا چاہے اورحج کے طواف کی
نیت کرے تواس کےلیے یہ طواف کافی ہوگا ۔ اھـ

دیکھیں : فتاوی ابن باز ( 17 / 332 ) ۔

واللہ اعلم .