کیا زبانی طور پر بھی عقد نکاح ہوسکتا ہے یا کہ لکھنا ضروری ہے ؟

الحمدللہ

لوگوں میں ہونے والے معاملات اورمعاہدے لکھنا
تو صرف توثیق اورتصدیق کا ایک وسیلہ ہیں نہ کہ عقد صحیح ہونے کی شرط ، یعنی لکھنے
کے بغیر بھی یہ صحیح ہیں ، توعقد نکاح لڑکی کے ولی کے ایجاب مثلا میں نے اپنی بیٹی
کی تجھ سے شادی کی ، اورخاوند کی جانب سے اسے قبول کو نکاح کہتے ہیں ، اور اس میں
لکھنے کی کوئي شرط نہیں ۔

لیکن اگر لکھ لیا جائے تو یہ ایک مستحسن اقدام ہے تا کہ اس نکاح کی تصدیق
اورتوثیق ہوسکے اورخاص کرہمارے اس دور میں ، اللہ تعالی ہی مدد و تعاون کرنے والا
ہے ۔

واللہ اعلم .