بعض سکولوں میں طالبات پرنماز باجماعت کا اہتمام کرنا ضروری ہے اوروہ حیض والی لڑکیوں کوایک خاص جگہ بیٹھنے کی اجازت دیتے ہیں ، تواس طرح کچھ لڑکیاں اللہ تعالی انہیں ھدایت دے اپنی نگران کے سامنے جھوٹ بولتی ہیں کہ انہیں ماہواری آئ ہوئ ہے اوروہ اتنے دن نمازنہيں پڑھتیں ، اورجب ماہواری آتی ہے تو ذلت سے بچنے کےلیۓ سب کے ساتھ نماز میں کھڑی ہوجاتی ہیں ، توایسی لڑکیوں کے اس جھوٹ کا کیا حکم ہے ؟


الحمد للہ

ان کا ایسا کرنا جائز نہیں اس لیے کہ اس میں کئ ایک جرم ہيں :

اول : اس دعوی میں صریح اورواضح جھوٹ بول کرعذر پیش کرنا ۔

دوم : نماز کا مکمل ترک کرنا یا پھر اس کے وقت میں تاخیر کرنا ، اوریا پھر عورتوں کی جماعت کوترک کرنا ۔

سوم : بعد میں حقیقی ماہواری کی حالت کے اندر نماز کی ادائيگی ۔

توآپ انہيں وعظ ونصیحت کریں اوران کے سامنے جھوٹ کاگناہ اورنماز میں وقت سے تاخیرکی سزا بیان کریں اس لیے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

{ جولوگ اپنی نماز میں کوتاہی کرتے ہیں }الماعون ( 5 ) ۔

اورجولڑکی بھی نماز میں تاخیر کرے یا پھر ماہواری کی حالت میں نماز پڑھے تواسے ‎سزا ضروردی جاۓ تا کہ اسلام کے ناپسندیدہ کام رک جائيں ۔

واللہ تعالی اعلم ۔
.