سوال: میں نے ایسے فتاوی پڑھے ہیں جن میں غیر مسلموں کو ان کے دینی و مذہبی تہواروں میں مبارکباد دینے کو ناجائز کہا گیا ہے، لیکن میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ان کی شخصی تقریبات اور خوشیوں کی مبارکباد دینے کا کیا حکم ہے؟ مثال کے طور پر شادی، یا کافی عرصہ بعد ملک واپس آنے پر مبارک باد دینا۔
الحمد للہ:
اول:
کفار کو ان کے دینی تہواروں میں
مبارکباد دینا یقینی طور پر حرام ہے، اس کے حرام ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے،
ہم نے پہلے متعدد فتاوی میں اس چیز کو تفصیلی طور پر بیان کیا ہے اور اس سے خبردار
بھی کیا ہے، آپ سوال نمبر: ( 947 ) ، (
11427 ) ، ( 4528 )اور ( 1130
) کے جوابات ملاحظہ کریں۔
دوم:
جبکہ کفار کی شخصی خوشیوں اور تقریبات
کی مبارک باد دینا مثال کے طور پر : شادی بیاہ، امتحان میں کامیابی، حصولِ ملازمت،
بیماری سے شفا یابی، بچے کی پیدائش، یا سفر سے واپسی وغیرہ تو ان کی مبارکباد دینے
کے بارے میں علمائے کرام کے تین اقوال ہیں اور یہی تینوں اقوال امام احمد سے بھی
منقول ہیں، چنانچہ کچھ علمائے کرام نے اسے جائز قرار دیا ہے، اور کچھ اسے منع کہا
ہے، جبکہ کچھ نے اسے شرائط اور شرعی مصلحتوں کے تحت جائز قرار دیا ہے، شرعی مصلحتوں
میں کفار کو دین اسلام کی دعوت اور تالیفِ قلبی قابل ذکر ہیں۔
یہ تیسرا موقف سب سے بہترین موقف ہے اور
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اسی کو اپنایا ہے۔
ابن مفلح حنبلی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"[ایک قول کے مطابق] کفار کی بیمار پرسی، خوشیوں پر مبارکباد، اور غمیوں میں تعزیت
کرنا حرام ہے۔۔۔، اور امام احمد کے دوسرے موقف کے مطابق مذکورہ تمام امور جائز ہیں،
تیسرے موقف کے مطابق اگر کافر شخص کو اسلام کی دعوت دینے میں کوئی شرعی مصلحت ہو تو
جائز ہے، اس آخری قول کو ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے نے پسند کیا ہے اور اسی موقف سے
ملتی جلتی بات آجری رحمہ اللہ نے بھی کی ہے۔
نیز یہ بھی متعدد علمائے کرام کا موقف ہے کہ کافر اگر بیمار ہو تو اس کی عیادت کی
جائے اور اسے اسلام کی دعوت دی جائے۔
اور ابو داود نے نقل کیا ہے کہ: اگر عیادت کا مقصود اسلام کی طرف دعوت ہو تو پھر
جائز ہے۔”
” الفروع و تصحیح الفروع ” ( 10 / 334 )
لیکن یہاں پر ہم کفار کی شخصی خوشیوں
میں مبارکباد کو جائز کہنے کیلیے کچھ مزید شرائط بھی بیان کرنا چاہتے ہیں تا کہ
حقیقی معنی میں مبارکباد دینا جائز قرار پائے، ان میں سے کچھ یہ ہیں:
1-
مبارکباد دینے کی تقریب میں مرد و زن کا
اختلاط، موسیقی، حرام کھانے اور پینے کی چیزیں نہ ہوں، کیونکہ بڑے افسوس سے کہنا پڑ
رہا ہے کہ مسلمانوں کی محفلیں اس قسم کی برائیوں سے خالی نہیں ہوتیں تو کفار کی
محفلوں کا کیا حال ہوگا؟!
اس بارے میں مزید کیلیے سوال نمبر: (3325) کا جواب ملاحظہ کریں۔
2-
مبارکباد دیتے ہوئے ایسی کوئی عبارت نہ
ہو جس شریعت سے متصادم ہو ، جیسے کہ سلام سے ابتدا کرنا، یا کافر کیلیے معزز اور
عمر درازی کی دعا کرنا مبارکبادی کے الفاظ میں شامل نہ ہو۔
ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"فصل: کفار کو شادی بیاہ، بچے کی پیدائش، سفر سے واپسی، بیماری سے صحت یابی، اور
کسی بھی حادثے سے بچ جانے کی صورت میں مبارکباد دینے کے بارے میں۔
امام احمد سے اس بارے میں متعدد اقوال ہیں، انہوں نے ایک بار ایسی مبارکباد کو بھی
منع کہا ، اور دوسری بار جائز قرار دیا، تاہم ان کا حکم بھی وہی ہے جو عیادت اور
تعزیت کا ہے دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے[یعنی: اگر اسلام کی دعوت دینا مقصود ہو تو
جائز ورنہ جائز نہیں ہوگا]
لیکن کفار کی شخصی خوشیوں کے موقع پر ان غلطیوں سے بچنا چاہیے جو جاہل لوگوں سے
ہوتی ہیں مثال کے طور پر کافر کو ایسے الفاظ میں مبارک باد دینا جو کافر کے دین سے
متعلق اظہار رضا مندی پر مشتمل ہوں، مثلاً یہ کہہ دینا کہ: "اللہ تمھیں تمہارے دین
کی وجہ سے خوشیاں دے” یا یہ کہنا کہ: "اللہ تمھیں تمہارے دین پر مزید مضبوط کرے” یا
یوں کہہ دے کہ: "اللہ تمھیں عزتوں سے نوازے” یا کہے کہ: "اللہ تمھیں مکرّم بنائے”
یہ سب جملے جائز نہیں ہیں، ہاں یہ کہہ سکتا ہے کہ: "اللہ تعالی تم پر کرم کرتے ہوئے
اسلام سے نوازے” یا "اسلام کے ساتھ تمہیں معزز بنائے” یا اسی طرح کے جائز جملے
مبارکباد میں بول سکتا ہے، لیکن یہ واضح رہے کہ مبارکباد کے یہ الفاظ غیر مسلموں کی
غیر مذہبی تہواروں اور خوشیوں میں دینے کیلیے ہیں”
” أحكام أهل الذمة ” ( 1 / 441 )
3-
کسی بھی کافر بلکہ کسی مسلمان کو بھی
گناہ کے سفر سے واپس آنے پر مبارکباد نہ دی جائے، اسی طرح مسلمانوں سے لڑائی لڑنے ،
یا کسی حرام ملازمت ملنے پر بھی مبارکباد نہ دی جائے، مثال کے طور پر بینک کی
ملازمت، یا غیر شرعی عدالتوں میں بطور قاضی تعیناتی وغیرہ۔
ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اگر کوئی شخص کسی کو گناہ، بدعت، یا کفر کے ارتکاب پر مبارکباد دیتا ہے تو اس نے
اللہ تعالی کی ناراضگی کو دعوت دی ہے، یہی وجہ ہے کہ اہل علم ونیک لوگ ظالم حکمران
کے حاکم بننے پر مبارکباد دینے سے بچتے تھے، اسی طرح کسی جاہل شخص کے منصب قضا ،
تعلیم، یا مسند فتوی سنبھالنے پر بھی اسے مبارکباد نہیں دیتے تھے؛ صرف اس لیے کہ
اللہ تعالی ناراض نہ ہو جائے اور اللہ تعالی کی نگاہوں سے گر نہ جائیں، لیکن اگر
کوئی شخص ایسی صورت حال میں پھنس جائے تو اس کے شر سے بچنے کیلیے اچھے لفظوں میں اس
کیلیے دعا کر دے اور کامیابی کی تمنا کر دے تو [ان شاء اللہ] اس میں کوئی حرج نہیں
ہے”
” أحكام أهل الذمة ” ( 1 / 441 ، 442 )
4-
کفر کے سرغنوں مثلاً: پوپ، راہب، اور
دیگر نامور کافروں کو مبارکباد دینے سے بچیں؛ کیونکہ ان کے اسلام قبول کرنے کی امید
ختم ہو چکی ہے، نیز اسی طرح انہیں مبارکباد دی جائے گی تو اس میں ان کی تکریم اور
مسلمانوں کی تذلیل کا پہلو بھی نکلے گا، البتہ اگر کسی کے بارے میں اسلام قبول کرنے
کی امید ہو تو پھر جائز ہے، جیسے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا ابو طالب
کی عیادت فرمائی تھی۔
شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ سے
جب پوپ کی آمد پر اسے مبارکباد دینے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا:
"نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیماری یہودی کو ملنے گئے تھے تو حقیقت میں وہ یہودی بچہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا، لہذا جب وہ بیمار ہوا تو آپ صلی اللہ
علیہ وسلم اس کی عیادت کیلیے گئے اور اسے اسلام کی دعوت بھی دی، چنانچہ جب آپ نے
عیادت کے بعد اسے اسلام کی دعوت دی تو وہ مسلمان بھی ہو گیا، اب اس واقعہ میں عیادت
ہی اس لیے ہے کہ اسلام کی دعوت دی جائے جبکہ دوسری جانب پوپ کو خیریت سے پہنچنے پر
مبارکباد دے اور اسے معنوی طور پر مزید مستحکم کرے ان دونوں میں کتنا فرق ہے؟! ان
میں برابری وہی شخص کر سکتا ہے جو جاہل ہے یا وہ کسی خاص مقصد کو پانے کی کوشش میں
ہے۔”
” مجموع فتاوى الشیخ عثیمین” ( 3 / 47 )
خلاصہ یہ ہوا کہ:
اس مسئلہ میں راجح بات تو یہی ہے کہ مبارکباد دینا جائز ہے، لیکن ہماری ذکر کردہ
شرائط کو لازمی اپنائے، اور بہتر یہی ہے کہ انسان غیر مسلموں سے بچ کر رہے، اور ان
کیساتھ گھل مل کر بیٹھنے سے احتراز کرے۔
واللہ اعلم.
