ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد میں نے بھول کراپنے بال مونڈ لیے حالانکہ میں نے قربانی کی نیت کررکھی تھی توکیا مجھ پرکفارہ ہے ؟


الحمد للہ

شیخ عبدالعزيز بن باز رحمہ اللہ تعالی کاکہنا ہے :

جوقربانی کرنا چاہے اس کے لیے ذوالحجہ کا چاند نظرآنے کے بعد قربانی کرنے تک
اپنے بال اورناخن اورجلدمیں سے کوئي بھی چيز کاٹنی جائز نہيں ، کیونکہ نبی مکرم صلی
اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے :

ام سلمہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا :

( جب عشرہ ( ذی الحجہ ) شروع ہوجائے اورتم میں کسی ایک کا قربانی کرنے کا ارادہ
ہو تووہ اپنے بال اورجلد میں سےکچھ بھی نہ کاٹے ) صحیح مسلم ۔

اورجوکوئي قربانی کرنے کا عزم رکھتا ہواوربھول کریا غلطی اورجہالت سے اپنے بال
یا ناخن اورجلد وغیرہ میں سے کچھ کاٹ لے تواس پرکچھ نہيں ، اس لیے کہ اللہ سبحانہ
وتعالی نے اپنے بندوں سے اس اوردوسرے معاملات میں بھول چوک اورخطاء معاف کردی ہے ۔

لیکن جوشخص عمدا اورجان بوجھ کرایسا کرتا ہےاسےاللہ تعالی کےہاں توبہ
واستغفارکرنی چاہیے اوراس کے علاوہ اس پرکچھ نہیں ( یعنی اس پرفدیہ اورکفارہ نہیں
ہوگا )

واللہ اعلم .