براہ کرم عطیہ دے کر ہمارے کام کو برقرار رکھنے اور ترقی دینے میں مدد کریں۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔
ميں جہاد سے پيچھے نہيں رہ سكتا، اور ميرى والدہ ميرے جہاد ميں جانے سے انكار كرتى ہے، اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے مجھے كچھ نصيحت كريں، كيونكہ ميں نے اسلام كے ليے كچھ بھى پيش نہيں كيا.
الحمد للہ:
دعوت و تبليغ ميں مشغول ہونے سے ہو
سكتا ہے آپ كو جہاد كا معاملہ فوت ہوجانے ميں سے كچھ نہ كچھ حاصل ہو جائے، آپ يہ
ذہن ميں ركھيں كہ آپ سستى و كاہلى اور بزدلى كى بنا پر جہاد سے پيچھے نہيں رہے،
بلكہ اپنے والدين كى اطاعت و فرمانبردارى كے ليے رہے ہيں جو كہ آپ پر واجب تھى، اور
يہ بھى ياد ركھيں كہ والدين كے ساتھ حسن سلوك كرنے ميں بہت زيادہ اجر عظيم ہے.
اور آپ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم
كا يہ فرمان نہ بھوليں:
” جس نے بھى اللہ تعالى سے صدق دل كے
ساتھ شہادت كا سوال كيا اللہ تعالى اسے شہداء كے مرتبہ ميں پہنچائےگا، اگرچہ وہ
اپنے بستر پر ہى كيوں نہ فوت ہو”
صحيح مسلم شريف حديث نمبر ( 3532 ).
واللہ اعلم .
