براہ کرم عطیہ دے کر ہمارے کام کو برقرار رکھنے اور ترقی دینے میں مدد کریں۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔
کیا کسی شخص کے لیے پہلی بیوی کی بہن سے شادی کرنا جائز ہے ، جبکہ پہلی کی عدت ختم ہوچکی ہو چاہے پہلی بیوی زندہ ہی ہو ؟
اس لیے کہ منع تو دونوں بہنوں کوایک نکاح میں جمع کرنا ہے اوروہ ابھی تک زندہ ہے ۔
الحمد للہ
جی ہاں سابقہ بیوی کی بہن سے شادی کرنا جائز ہے لیکن شرط یہ ہے کہ سابقہ بیوی کی
عدت گزر چکی ہو ، اس کی دلیل اللہ تعالی کا مندرجہ ذیل فرمان ہے :
{ اوریہ کہ تم دوبہنوں کو جمع کرو } النساء ( 23 ) ۔
عبیدہ سلمی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں کہ :
صحابہ کرام کا کسی بھی چيز میں اس طرح اجماع نہيں جس طرح کہ ظہر سے قبل چار (
رکعتوں ) اوربہن کی عدت میں دوسری بہن سے شادی نہيں کی جاسکتی میں اجماع پایا جاتا
ہے ۔
تونہی زوجیت کے ثبوت میں جمع کرنے سے ہے ، لیکن اب جبکہ سابقہ بیوی کی عدت ختم
ہوچکی ہے تواس سے طلاق کی وجہ سے تعلق ختم ہوچکا ہے ، لھذا اس سے شادی کرنے میں کوئي
مانع نہیں ۔
دیکھیں : المغنی لابن قدامہ المقدسی ( 7 / 68- 69 ) ۔
واللہ اعلم .
