ہماری گزارش ہے کہ ہمیں نکاخ خوان کوعطیہ دینے کے حکم کا فتوی دیں کہ آيا یہ جائز ہے یا نہیں ؟

الحمدللہ

اگر تونکاح خوان کوبیت المال کی جانب سے
تنخواہ دی جاتی ہے توپھر اس کے حلال نہیں کہ وہ عقد نکاح کروانے والوں سے کچھ لے ،
اوراگراسے تنخواہ نہیں ملتی بلکہ وہ بغیر کسی معاوضہ کے یہ خدمت سرانجام دیتا ہے توپھر
بغیر مانگے اسے کچھ مل جائے پواس میں کوئي حرج نہيں ، اوراگروہ طلب کرکے لیتا ہے
تومیں اسے پسند نہیں کرتا ۔

اورجوکوئي مستغنی ہونا چاہے اللہ تعالی اسے غنی کردیتا ہے ۔.