کسی مرض کی بنا پرعاجز شخص یا پھر فوت شدہ کی جانب سے حج کرنے والے والے کے لیے حج کا طریقہ کیا ہے ، اورکیا اس کے لیے لازم ہے کہ حج تمتع یا افراد میں کوئي قسم اختیار کرے ؟


الحمد للہ

کسی کی جانب سے حج کرنے والا ( لبيك عن فلان ) کہے ، اورنائب کے لیے واجب ہے کہ وہ
حج تمتع کرے کیونکہ حج تمتع افضل ہے ، اورہروہ انسان جسے کسی چيز میں وکیل بنایا
جائے تواس پرافضل کی اتباع کرنی واجب ہوگی۔

لیکن جب اس کا مؤکل خود ہی اس کے خلاف اختیارکرلے ، اس لیے کہ وکیل کے پاس یہ
امانت ہے اوراس پرواجب ہےکہ وہ زيادہ اچھا کام کرے ۔ .