کیا ممکن ہے کہ آپ مجھے یہ بتائيں کہ بیوی کا اپنے خاوند کو اس کےنام سے پکارنا جائز ہے ؟


الحمد للہ

عورت کے لیے اپنے خاوند کے اس کے نام سے پکارنے میں کوئي حرج نہیں ، کیونکہ اس کی
ممانعت پر کوئي دلیل نہیں پائي جاتی ، لیکن اس مسئلہ میں لوگوں کی عادات اورعرف
معتبر ہے ۔

کسی ملک میں لوگوں کے اندر یہ معروف ہے کہ بیوی خاوند کومثلا کنیت سے پکارتی ہے
، اوران کے خیال میں خاوند کانام لے کر پکارنا بے ادبی ہے ، یا پھر خاوند یہ پسند
نہیں کرتا کہ اسے اس کانام لے کر پکارا جائے ، توعورت کواس کا خیال رکھنا چاہیے ۔

اس لیے کہ ایسا کرنے میں خاوند سے حسن معاشرت ہے اوراللہ تعالی نے بھی حسن
معاشرت کا حکم دیا ہے ، تویہ حسن معاشرت نہیں کہ اسے اس نام سے مخاطب کیا جائے جسے
وہ ناپسند کرتا ہو ، یا پھر جسے لوگ نقص شمار کرتے ہوں ۔

خاوند اوربیوی کےلیے ضروری ہے کہ وہ ایک دوسرے کواس نام سے پکاریں جواس کے نزدیک
سب سے محبوب اورپیارا ہو ، اس لیے کہ اس میں ان دونوں کے مابین محبت و الفت و مودت
پیدا ہوگي اوراس میں زيادتی بھی ہوگی۔

مناوی رحمہ اللہ تعالی نے فیض القدیرمیں صحبت کے آداب بیان کرتےہوئے کہا ہے کہ :

صحبت کے آداب میں راز افشاں نہ کرنا بلکہ اسے چھپانا ، عیب کی پردہ پوشی کرنا ،
لوگوں کی وہ مذمت والی باتیں اسے پہنچانے سے گریز کرنا جواسے اچھی نہیں لگتیں ،
بلکہ اسے لوگوں کی اس کے بارہ میں اچھی باتیں پہنچائي جائيں جوکہ اس کی تعریف کے
بارہ میں ہوں ۔

بات چیت میں اچھا رویہ اختیار کرنا اوراس کی بات کوسننا ، حقوق میں اس کا شکریہ
ادا کرنا ، اس کی غیر موجودگی میں اس کے خلاف باتوں کی نفی کرنا اوراس کا دفاع کرنا
، اورضرورت کے وقت بغیر طلب کیے اس کا ساتھ دینا ، اسے نرمی اورتعریض کے ساتھ وعظ
ونصیحت کرنا ، – اگر اسے اس کی ضرورت ہوتو – اس کی غلطی اورکوتاہی سے صرف نظر کرنا
، اس پر عیب جوئي نہ کرنا ، اس کی زندگي اورموت کے بعد بھی خلوت میں اس کے لیے دعا
کرنا ۔

اس کی خوشی کے وقت فرحت کا اظہار کرنا ، اوراگراسے کوئي نقصان ہوتو اس میں غم کا
اظہار کرنا ، جب وہ آئے توسلام کرنے میں ابتدا کرنا ، مجلس میں اس کے لیے جگہ بنانا
، اس کے لیے اپنی جگہ سے نکلنا ، اوراس کے کھڑے ہونے کی صورت میں اس کے پیچھے جانا
، جب وہ کلام کررہا ہوتو خاموشی اختیار کرنا ، اجمالی طور پر یہ ہے کہ اس کے ساتھ
اس طرح معاملہ کرنا جس طرح وہ پسند کرتا ہو ۔ ا ھـ ، اختصار کے ساتھ ذکر کیا گيا ہے
۔

واللہ اعلم .