کیا بیوی پر واجب ہے کہ وہ اپنے خاوند کا کھانا پکائے ؟
اوراگر وہ یہ کام نہیں کرتی توکیا وہ اس کی وجہ سے گنہگار ہوگی ؟
الحمدللہ
شیخ ابن جبرین حفظہ اللہ تعالی کہتے ہیں :
مسلمانوں میں آج تک یہ معروف چلا آرہا ہے کہ بیوی خاوند کی خدمت کرتی چلی آرہی
ہے اوروہ خدمت عادتا معلوم ہے کھانا پکانا ، کپڑے وغیرہ دھونا ، اوربرتن صاف کرنا ،
گھر کی صفائي کرنا اوراسی طرح جو مناسب کام ہیں وہ کرنا ، اوریہ کام نبی صلی اللہ
علیہ وسلم کے دور سے آج تک معروف ہے اورہوتا چلا آرہا ہے جس کا کوئي شخص بھی انکار
نہیں کرسکتا ۔
لیکن بیوی کومشقت اورتکلیف میں ڈالنا نہیں چاہیے بلکہ یہ سب کچھ وہ حسب استطاعت
و قدرت عادت کے مطابق کرے گی اس سے زيادہ اس پر ڈالنا لائق نہيں ۔اللہ تعالی ہی
توفیق بخشنے والا ہے ۔
دیکھیں : فتاوی العماء فی عشرۃ النساء ص ( 20 ) ۔
آپ مزيد تفصیل دیکھنے کے لیے سوال نمبر (
10680 ) کے جواب کا بھی
مطالعہ کریں ۔
واللہ اعلم .
