ایک شخص شوال کے چھ روزے رکھتا رہا لیکن کسی ایک برس وہ مرض یا سستی یا کسی اورمانع کی وجہ سے روزے نہ رکھ سکا توکیا وہ گنہگار ہوگا ، ہم یہ سنتے رہتے ہيں کہ جو ایک برس رکھ لے اس پرواجب ہے کہ وہ روزے رکھنے نہ چھوڑے ؟


الحمد للہ

عید الفطر کے بعد شوال میں چھ روزے رکھنے سنت ہیں ، اورجوایک بار رکھے اس پر واجب
نہيں کہ وہ مستقل طورپر ہر سال رکھے ، اورکسی ایک سال روزے نہ رکھنے سے گنہگار نہیں
ہوگا ۔

اللہ تعالی ہی توفیق بخشنے والا ہے اللہ تعالی ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ
وسلم اوران کی آل اورصحابہ کرام پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے ۔

واللہ اعلم .