براہ کرم عطیہ دے کر ہمارے کام کو برقرار رکھنے اور ترقی دینے میں مدد کریں۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔
ہوٹل میں کام کرنے والے کوزيادہ رقم دینے کا حکم کیا ہے ؟ آپ کے علم ميں ہونا چاہیے کہ کچھ بلوں میں بخشش ہوتی ہے ؟
الحمد للہ
میں نے مندرجہ بالا سوال شيخ عبدالرحمن البراک حفظہ اللہ سے پوچھا توان کا جواب تھا
:
کام کرنے والے کویہ زیادہ رقم دینی جائز نہیں کیونکہ آپ کی جانب سے اسے رشوت
شمار کیا جائےگا تا کہ وہ آپ کی خدمت بہتر اوراچھے طریقہ سے کرے ، یاپھر دوسروں کی
بنسبت جویہ زيادہ رقم نہیں دیتے آپ کوکھانا زيادہ دے ، اورنہ ہی کام کرنے والے کے
لیے جائز ہے کہ وہ کسی ایک شخص کوزيادہ رقم حاصل ہونے کی بنا پرخدمت کے لیے خاص کرے
، بلکہ اسے سب لوگوں سے ایک جیسا ہی معاملہ کرنا چاہیے ۔
لیکن ۔۔ اس زيادہ رقم سے جب رشوت اورگناہ کا شبہ جاتا رہے تواس وقت اس میں کوئي
حرج نہیں ۔
جس طرح کہ اگرآپ اس غریب وکمزور اورمحتاج پراحسان کرنا چاہیں اورآپ اس ہوٹل میں
باربار بھی نہ جاتے ہوں ۔ .
